حیات شمس

by Other Authors

Page 208 of 748

حیات شمس — Page 208

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس بہائیت کی حقیقت 192 حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس اپنی رپورٹ مرسلہ 22 مارچ 1928ء میں تحریر کرتے ہیں: میں ان دنوں بہائیت کے مرکز ( حیفا ) میں مقیم ہوں مجھے خواہش تھی کہ یہاں لیڈران بہائیت سے مل کر گفتگو کروں۔اتفاقاً عید کے روز جبکہ میں ڈاکٹر رشدی التمیمی کے مکان پر تھا اخبار الكرمل کے ایڈیٹر مسٹر نجیب نصار تشریف لائے۔یہ صاحب مسیحی ہیں اور بہاء اللہ کے بیٹے (الغصن الامر ) ودیع اللہ کی بیٹی ساذج ان کی بیوی ہے۔میں نے ان سے بہائیت کے متعلق دریافت کیا تو پہلا فقرہ جو ان کی زبان پر جاری ہوا۔وہ یہ تھا: " قد ماتت البهائية و لم يبق لها دعاة کہ اب بہائیت مرچکی ہے اور اس کی طرف بلانے والے نہیں رہے۔پھر اس نے کہا عباس آفندی اگر چہ حریص اور دنیا کا طالب شخص تھا مگر عالم اور قادر الکلام تھا۔اس کے بعد ان میں کوئی عالم شخص نہیں ہے اور دوسرے انہوں نے یہ غلطی کی کہ اسلامی شریعت کو منسوخ قرار دیا اور اپنے آپ کو خدا کہا۔حتی کہ میں اپنی بیوی سے کہا کرتا ہوں کہ عباس آفندی نے یہ کیا بیوقوفی کی کہ اپنی لڑکیوں کی عقل کو خراب کر دیا جو وہ ان کیلئے سجدہ کرتی ہیں۔عباس آفندی اور علی محمد باب پھر میں عباس آفندی کی قبر دیکھنے گیا۔اس کی قبر کے ارد گرد نہایت قیمتی غالیچے بچھائے گئے ہیں۔ایک طرف عورتوں کے لئے زیارت کرنے کا مقام ہے اور دوسرے طرف مردوں کے لئے۔پھر اس کے ساتھ ہی دوسرے کمرہ میں علی محمد باب کی قبر ہے جو 1265ھ میں تبریز میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔پھر اُسے ایک خندق میں ڈالا گیا۔نہ معلوم بہائیوں نے اس کی یہاں قبر کیسے بنالی اور اتنی دور سے مردہ کو لا نا خود باب کی شریعت کے بھی مخالف ہے۔دونوں کے دروازوں پر مناجاتیں لکھی ہوئی ہیں۔میں نے مناجاتیں نقل کرنی چاہیں مگر مجاور نے کہا کہ یہ عنایت اللہ بہائی کی دکان سے آپ خرید سکتے ہیں۔میں نے کہا بہت اچھا۔دوسرے دن میں شوقی آفندی کی ملاقات کے لئے گیا مگر وہ وہاں موجود نہ تھے۔خادموں نے کہا کسی اور وقت تشریف لائیں۔شوقی آفندی کی عمر بائیس برس کے قریب ہے اور وہ بہاء اللہ کی پوتی اور عباس آفندی اپنے نانا جان کے خلیفہ ہیں۔