حیات شمس — Page 158
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 158 تبلیغی موانع جوں جوں حالات بگڑتے گئے تبلیغ میں روکیں پیدا ہوتی گئیں۔شاید بعض احباب یہاں کی دینی حالت سے ناواقف ہوں۔یہاں کوئی لیکچر گاہ نہیں ہے جہاں دینی لیکچر دیئے جاسکیں اور نہ ہی یہاں مذہبی لیکچر دیئے جاتے ہیں اور نہ کوئی عام درس گاہ ہے کہ جہاں درس جاری کیا جائے۔مساجد ہیں تو وہ مشائخ کی تکیہ گاہ یا جاگیریں ہیں جن پر ان کا گزارہ ہے۔وہ مسجد کو خدا کی ملک نہیں بلکہ اپنی مملوکہ جائیدادوں کی طرح سمجھتے ہیں اور وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا (البقرة: 115) کی وعید سے نہیں ڈرتے۔کوئی شخص ان کے خرافاتی عقائد کی تردید میں کچھ بیان نہیں کر سکتا۔دوسال کا واقعہ ہے کہ شیخ رشید رضا مدیر المنار مصر سے یہاں آئے۔جامع اموی میں بعض کی درخواست پر کسی دینی امر کے متعلق لیکچر دیا۔اس میں کوئی بات دمشقی مشائخ کے خیالات کے مخالف انہوں نے اس پر شور ڈالدیا اور جہلاء کو ان کے خلاف بھڑکا دیا جو مارنے کیلئے تیار ہو گئے وہاں تعلیم یافتہ نوجوان بھی موجود تھے انہوں نے بڑی مشکل سے بچا کر انہیں وہاں سے نکالا۔کوئی دینی اخبار نہیں کہ اس میں دینی مضامین شائع کرائے جائیں۔بیسیوں اخبار میں اور رسالہ جات علاقہ شام میں موجود ہیں مگر سب سیاست پر بحث کرتے ہیں یا فکاہیات ہیں جیسا کہ اردو میں پنج اخبار۔میں نے ایڈیٹروں سے دریافت کیا کہ دینی اخبار کیوں نہیں نکالتے۔انھوں نے جواب دیا کوئی خریدار نہیں ملتا۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ دین سے کتنے دور جا پڑے ہیں۔پھر مینجر ز اور ایڈیٹرز کی یہ حالت ہے کہ وہ دینی مضامین شائع کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ابھی چند دن کا واقعہ ہے میں نے مکان تبدیل کیا اس کے لئے اعلان کی ضرورت تھی اس میں ایک فقرہ تھا کہ جو دینی امور کے متعلق گفتگو کرنا چاہے وہ ہمارے مکان پر آکر کر سکتا ہے خواہ کسی مذہب کا ہو۔اس اعلان پر اجرت مقررہ کے مطابق ایک روپیہ کے قریب خرچ آتا تھا مگر مینجر نے کہا چونکہ یہ اعلان دینی ہے اس لئے اس کی اجرت ایک پونڈ ہے۔پھر دوسرے اخبار میں اعلان کروایا۔مشائخ کی حالت بعض مشائخ سے گفتگو کا موقعہ ملا۔بعض ان میں سے نہایت متعصب ہیں اور اندھے مقلد۔بعض