حیات شمس — Page 130
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس دمشق کے بارہ میں حضور کا ارشاد مبارک چنانچہ حضور نے مجھے اس سفر میں ہی اطلاع دی کہ میں تیار ہوں۔ایک دن میں اور شمس صاحب دار التبلیغ میں بعض دوستوں سے احمدیت کے بارہ میں باتیں کر رہے تھے کہ شیخ عبدالقادر المغربی مرحوم تشریف لائے اور بیٹھ کر ہماری باتیں سنیں۔اثنائے گفتگو میں استخفاف سے اپنی سابقہ ملاقات کا ذکر کیا اور جو مشورہ حضور کو دیا تھا اسے دہرایا اور مذاقاً کہا کہ الہامات کی عربی عبارت بھی درست نہیں۔میں نے خطبہ الہامیہ ان کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ پڑھیں کہاں عربی غلط ہے۔انہوں نے اونچی آواز سے پڑھنا شروع کیا اور ایک دولفظوں سے متعلق کہا کہ یہ عربی لفظ ہی نہیں شمس صاحب نے تاج العروس [ عربی لغت] الماری سے نکالی اور وہ لفظ نکال کر انہیں دکھائے۔سامعین کو حیرت ہوئی اور میں نے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے کہا کہلاتے تو آپ ادیب ہیں لیکن آپ کو اتنی عربی بھی نہیں آتی جتنی میرے شاگرد کو ( شمس صاحب ان دنوں مجھ سے انگریزی پڑھتے تھے )۔اس پر انہیں بڑا غصہ آیا اور یہ کہتے ہوئے اٹھے اور کمرے سے باہر چلے گئے۔اُرِيكَ غَدًا نُجُومَ الظهر كل میں تمہیں ظہر کے تارے دکھاؤں گا۔( یہ عربی زبان کا محاورہ ہے ) میں نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ سامعین میں سے (اس وقت) کچھ متاثر ہیں اُن سے کہا۔یہ میرے پرانے دوست ہیں۔صلاح الدین ایوبیہ کالج میں علیم ادب پڑھایا کرتے تھے اور سامعین کو علم تھا کہ میں بھی وہاں پڑھایا کرتا تھا۔میں نے کہا انہیں خطبہ الہامیہ پڑھ کر ایسی رائے کا اظہار نہ کرنا چاہئے تھا۔بجائے ناواقف ہونے کے انہیں حق بات مان لینی چاہئے تھی۔جب دوست چلے گئے اور شام ہوگئی تو شمس صاحب نے مجھ سے کہا حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے الوداع کرتے وقت آپ کو یہ نصیحت کی تھی کہ شیخ عبد القادر المغربی سے نہیں بگاڑنا۔وہ آپ کے دوست ہیں اور ان کا شہر میں بڑا اثر ہے۔میں نے شمس صاحب سے کہا فکر نہ کریں وہ میرے دوست ہیں میں انہیں ٹھیک کرلوں گا۔کل صبح ہم دونوں ان کے پاس جائیں گے۔دوسرے دن صبح سویرے ہم دونوں ان کے مکان پر گئے۔دستک دی تو مغربی صاحب تشریف لے آئے اور آتے ہی مجھ سے بغلگیر ہوئے اور مجھے بوسہ دیا اور کہا کہ آپ سے معافی مانگتا ہوں میں آپ کی طرف آنا 130