حیات شمس — Page 109
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس ہے قادیانی کی مرے پیارے خدا تجھ پھلے پھولے قیامت تک گلستان جلال الدین کلمۃ الحق مباحثہ جلال پور جٹاں 109 (احکم قادیان 21/14 جولائی 1923ء) اس مباحثہ کا نام جو بعد ازاں کتابی صورت میں شائع ہوا ” مباحثة ما بین اہل سنت و الجماعت و اہل تشیع اثنا عشریه المسمى بـه كلمة الحق ہے۔جلال پور جٹاں ضلع گجرات پاکستان کا ایک بڑا گاؤں ہے۔1923ء میں جلال پور جٹاں کی اہلسنت والجماعت نے شیعوں سے مناظرہ کرنے کیلئے قادیان سےDemand پر حضرت حافظ روشن علی صاحب کو معہ دیگر احباب کو منگوایا۔چنانچہ حضرت حافظ صاحب نے اس میں اہلسنت والجماعت کی نمائندگی کی۔اس مناظرہ میں حضرت حافظ صاحب کے پرچے حضرت مولانا شمس صاحب کو پڑھنے کی توفیق ملی۔اہل تشیع کی طرف سے جناب سید غلام علی شاہ صاحب مناظر تھے۔یہ مناظرہ جو 66 صفحات پر مشتمل ہے 1923ء میں شائع ہوا۔(کلمۃ الحق مباحثہ جلال پور جٹاں ) اس مناظرہ کے بارہ میں حضرت مولانا غلام احمد صاحب بد و ملہوی کا بیان ہے: 1920ء میں ہی حضرت حافظ صاحب بعض اوقات اپنے تبلیغی سفروں میں ہم میں سے کبھی ایک کبھی دو کو کبھی تین کو اپنے ساتھ لے جاتے اور اپنی راہنمائی میں تقریریں کرنے ، مناظرہ کرنے کی مشق کراتے کبھی کسی مناظرہ کیلئے ایک دو کو بھجوا دیتے۔چنانچہ اسی سال 1920ء میں مولوی شمس صاحب کے دو مشہور مباحثے ہوئے۔ایک مباحثہ عالم پور کوٹلہ ( بیاس پار ) اور دوسرا مباحثہ سار چور مشہور ہیں۔اس کے بعد 1921ء میں اور پھر 1922ء میں یہ بند اور کھل گیا۔آخر فروری 1923ء میں مباحثہ جلال پور جٹاں آخری یادگاری تھے جس میں حضرت حافظ صاحب مناظر تھے اور آپ کے پرچہ جات مولوی شمس صاحب پڑھتے تھے اور خاکسار غلام احمد بدوملہوی اور مولوی ظہور حسین صاحب حوالے پیش کرتے تھے۔(الفضل ربوہ 17 نومبر 1960ء)