حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 98
۹۸ آپ دونوں کے سنگم ہیں۔دونوں میں یکساں ہیں دونوں کے حقوق برا برادا کرنے والے ہیں۔کسی کے ساتھ جنبہ داری کا سلوک برتنے والے نہیں ، کامل انصاف کے ساتھ دونوں کے معاملات نپٹانے کی اہلیت رکھنے والے ہیں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی یہ وہ صفت ہے جسے اللہ کے نور کے طور پر بین فرمایا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ خداتعالی مشرق اور مغرب دونوں کا خالق ہے لہذا جس طرح خدا تعالیٰ کے بارہ میں سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ وہ اپنی ایک مخلوق اور اپنی دوسری مخلوق کے درمیان فرق روا رکھے، اس کی سب مخلوقات اس کے نزدیک برابر ہیں اسی طرح جو انسان خدائی صفات میں رنگین ہو ہو جائے اور بالخصوص اس صفت سے بھی حصہ لے تو اُس کے دل سے ہر قسم کی عصبیت مٹ جاتی ہے۔نہ قومی عصبیت باقی رہتی ہے ، نہ نسلی عصبیت باقی رہتی ہے ، نہ مذہبی صبیت باقی رہتی ہے ، نہ جغرافیائی عصبیت باقی رہتی ہے۔کوئی class distinction طبقاتی تفریق ) باقی نہیں رہتی کہ جو انسانوں کے ایک طبقہ کو اسی ملک کے دوکے طبقوں سے جدا کردے۔عصبیت کا زہر اور اس کا قرآنی علاج قرآنی آیت کے اس چھوٹے سے حصّہ (لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَيْبِيَّة ) میں دنیا کے مسائل حل کرنے کا ایک بہت ہی عظیم الشان نسخہ بیان فرما دیا گیا ہے جسے اگر اہل دنیا اختیار کر لیں تو آج کی دنیا کے بیشتر مسائل صرف اس حصہ پر عمل پیرا ہونے پر حل ہو سکتے ہیں جب کہ آپ سب جانتے ہیں آج دنیا کی سیاست میں عصبیت بعض جگہ ظاہری طور پراثر دکھا رہی ہے۔وہ قومیں جو نسبتا کم ترقی یافتہ ہیں اور سیاست کے اصولوں سے پوری طرح واقف نہیں ہیں وہ بجائے اس کے کہ وہ اپنی عصبیتوں کو چھپائیں اور چھپانے میں کامیاب ہوں وہ اپنی عصبیتوں کو ابھارتی ہیں اور عصبیت سے طاقت حاصل کر کے قومی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔