حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 39

۳۹ ہوائیں چلنے لگتی ہیں قومی تعمیر اور قومی کھیتی پیدا کرنا ناممکن ہے جب تک گھروں کی تعمیر نہ ہو اور گھروں میں بیچتی نہ ہو جس قوم کے گھر منتشر ہو جائیں وہ قوم اکٹھی نہیں رہ سکتی جس قوم کے گھروں میں امن نہیں اس قوم کی گلیاں بھی ہمیشہ امن سے محروم رہیں گی۔حقیقی جنت گھر کی تعمیر میں ہے حقیقی بجنت رحمی رشتوں کو مضبوط کرنے میں ہے اسی لئے قرآن کریم نے بارہا ہمیں رحمی رشتوں کی طرف متوجہ فرمایا اگر تم رحمی رشتوں کو کاٹو گے تو خدا کے رحم سے بھی کاٹے جاؤ گے اور جو رحمانیت سے کاٹا گیا وہ کہیں کا نہیں رہا۔پھر خدا کی طرف سے تمہاری دعاؤں کے باوجود رحم کا سلوک نہیں کیا جائے گا۔گھر آج مغرب میں بھی ٹوٹ رہے ہیں اور مشرق میں بھی اور گھروں کو بنانے والا صرف ایک ہے اور وہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہیں آپ ہی کی تعلیم ہے جو مشرق کو بھی سدھار سکتی ہے اور مغرب کو بھی۔آج کی دنیا میں امن کی ضمانت ناممکن ہے جب تک گھروں کے سکون اطمینان۔اور اندرونی امن کی ضمانت نہ دی جائے۔اگر آپ نے دنیا کو امن عطا کرنا ہے تو احمدی خواتین اپنے گھروں کو سچے دینی۔۔۔ناقل) گھروں کا ماڈل بنائیں اور تمام دنیا میں وہ ایسے پاک نمونے پیش کریں جس کے نتیجہ میں بنی نوع انسان دوبارہ گھر کی کھوئی ہوئی جنت کو حاصل کر لیں۔آپ گھروں کی تعمیر نو کی کوشش کریں۔اپنے گھروں کو جنت نشان بنائیں۔اپنے تعلقات میں انکسار اور محبت پیدا کریں۔ہر اس بات سے احتراز کریں جس کے نتیجہ میں رشتے ٹوٹتے ہوں اور نفرتیں پیدا ہوتی ہوں۔آج دنیا کو سب سے زیادہ گھر کی ضرورت ہے اس کو یاد رکھیں اور یہ گھر اگر احمدیوں یاد رکھیں اور یہ گھر اگر احمدیوں نے دنیا کو مہیا نہ کیا تو دنیا کا کوئی معاشرہ بنی نوع انسان کو گھر جہیا نہیں کر سکتا۔