حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 56

: مغربی حاشر ہیں گھروں کی بربادی کے خوفناک نتائج بیاہ شادی کے موقعہ پر اس آیت کا انتخاب غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور گھڑوں کی تعمیر میں یہ آیت ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔اللہ تعالی انہیں یاد کرا تا ہے کہ تم ایک جان سے پیدا ہوئے تھے۔اگرچہ تعداد میں بڑھ رہے ہوا اور پھیلتے چلے جارہے ہو لیکن ہمیشہ ایک جان کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتے چلے جانا اور یہ تبھی نصیب ہو گا اگر گھر کے تعلقات کو مضبوط کروگے اور بھی رشتوں کو استوار کر گے۔اس میں حکمت کا ایک بہت بڑا اور گہرا راز یہ ہے کہ قوی تعمیر اور وی کیتی پیا کر نا نا مکن ہے جب تک گھر کی تغیر نہ ہو اورگھروں میں کمی نہ ہو جس قوم کے گھر نت ہو جائیں وہ قوم اکٹھی نہیں رہ سکتی۔اس کے مفادات بکھر جاتے ہیں جیں قوم کے گھروں میں اسن نہیں اس قوم کی گلیاں بھی ہمیشہ امن سے محروم رہیں گی۔یہ ایک ایسا قانون ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی۔آپ ان ممالک کے جرائم کا جائزہ لے کر دیکھیں جن مانک میں آج کل با وجود اقتصادی ترقی کے باوجود علمی ترقی کے نہایت خوفناک قسم کے جرائم نشو نما پارہے ہیں اور دن بدن زیادہ بھیانک ہوتے چلے جارہے ہیں تو آپ کو اس کی آخری وجہ یہی معلوم ہوگی کہ گھر ٹوٹتے کے نتیجہ میں یہ جرائم بڑھے ہیں۔انگلستان میں آج کل ایک نہایت ہی دردناک جرم کے تذکرے ہورہے ہیں۔ہر خبر میں اور ریڈیو، ٹیلی ویژن کی ہر Announcement (نشریہ) میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعض ید بختوں نے گندی نگی فلمیں بنانے کے لئے معصوم بچوں کو اغوا کیا اور جس قسم کی خوفناک نہیں وہ بنانا چاہتے تھے ان فلموں کے بنانے کے دوران تقریباً ہم بچے موت کے گھاٹ اتار دیے۔کیسا کیسا بھیانک فلم ان پر کیا ہوگا اوران کی چیخیں سنے والا اوران کی پکارنے والا کوئی نہیں تھا۔یہ ایس در یک واقعہ ہے کہ ساری قوم کا سر شرم سے جھک جاتا ہے بلکہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے لیکن دیکھ لیجئے۔اس کی آخری وجہ یہی ہے کہ انفرادیت کی وجہ سے گھر ٹوٹ رہے ہیں اور لذت یابی