حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 97
تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا ہر اللہ تعالی کی نوری صفات کی جلوہ گری اور اثرات اللہ تعالیٰ کا جو نور حضرت اقدس محمد مصلح صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے روحانی سانچے میں ڈھالا گیا اس کا ذکر قرآن کریم میں بہت ہی خوبصورت انداز میں ملتا ہے۔سورۃ النور کے آغاز میں اس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ صفات جو سراسر نور ہیں وہ انسان میں بھی جلوہ دکھا سکتی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی نوری صفات سے اپنی صفات کو رنگین کرلے اور اپنے وجود کو اس نور کے سامنے غائب کرے۔یہ واقعہ کامل طور پر حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں ظاہر ہوا۔اللہ تعالیٰ کی جو تورانی صفات بیان فرمائی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ " لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّة ، یعنی خدا تعالی مشرق کا بھی دلیسا ہی ہے جیسا کہ مغرب کا ہے۔دو سے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ نہ تو مشرق کا ہے نہ مغرب کا بلکہ سب کے درمیان سانجھا ہے، برابر ہے۔اسی طرح حضرت محمد مصلے صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم بھی پوری دنیا کے لئے ایک تغیر کے طور پر ظاہر ہوئے۔آپ نہ صرف مشرق کے ہیں نہ مغرب کئے