حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 77

،، دن بدن زیادہ ہو کہ دکھائی دینے لگا ہے۔اگر کوئی عورت سنگھار پیار کرتی ہے، سوسائٹی میں جاتی ہے ، دل کے بہلانے کے کچھ سامان کرتی ہے اور اُسے کہا جاتا ہے کہ بی بی ذرا سنبھل کر چلو تو کہے گی چھوٹی موٹی باتیں ہیں میں نے کون سا گناہ کیا ہے ؟ کیا تم میری زندگی کو عذاب بنادو گی لیکن یہ چھوٹی موٹی باتیں درحقیقت بعض دفعہ بہت بڑی باتیں پیدا کر دیا کرتی ہیں۔ایسی اولاد میں کی ماں کو اور جس کے باپ کو اپنی لذتوں کی تلاش اتنی ہو جائے کہ وہ اس کی زندگی کے روز مرہ کے انداز پر غالب آجائے تو ایسی مائیں بسا اوقات اپنے بچوں کی تربیت سے فاضل ہو جاتی ہیں۔باہر وقت گزار کر کبھی آتی ہیں تو یہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ بچے اپنے کمرے میں موجود ہیں کہ نہیں کچھ ان کی فوری ضرور تیں ہوئیں تو وہ پوری کر دیں۔کوئی بیمار ہوا تو اس کا علاج کیا لیکن پھر گلے سے اتار کر اپنے علیحدہ کمروں میں غائب ہو گئیں اور صبح احمد کرنے سوشل پراگرام بنائے گئے اور نئی لذتوں کی تلاش کی گئی۔ایسی ماؤں کی نظری پہلے بدلتی ہیں پھر اولاد کی نظریں بدلا کرتی ہیں۔اولاد کو خدا تعالیٰ نے بہت ہی فراست عطا فرما رکھی ہے جن بچوں نے اپنی ماؤں کو ایک خود غرضی کی حالت میں زندگی بسر کرتے دیکھا ہو وہ لازما خود غرض بن کر پڑے ہوتے ہیں اور بچپن سے ان کو احساس نہیں ہوتا کہ میری ماں مجھ پر احسان کرنے والی ہے بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میری ماں نے اپنی مرضی سے جب اس نے چاہا، جب اس کو خواہش پیدا ہوئی مجھ سے پیار کیا لیکن میری ساتھی نہ بنی مجھے اُس نے رفاقت عطا نہیں کی مجھ سے ایسا تعلق قائم نہ کیا کہ مجھے اس کے ساتھ بیٹھنے کا مزہ آئے اُسے میرے ساتھ بیٹھنے کا مزہ آئے۔پس اسی وقت سے اس بچے کا متقبل گھر کی بجائے گلیوں سے وابستہ ہونے لگتا ہے اپنے بچوں کے ساتھ اعتماد اور پیار کا رشتہ قائم کریں صرف یہی نہیں بلکہ جو ٹلانے کی باتیں ہیں یہ بھی بظاہر چھوٹی ہیں لیکن بہت گہرے اور لمبے نقصانات پیدا کرتی ہیں۔ایسی مائیں جو اپنے بچوں کو چپ کرانے کی خاطر جھوٹ بول