حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 69 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 69

۶۹ میں بند کر دیا گیا ہے۔عورت کے اختیار میں ہے کہ قوم کا متقبل بنائے۔جس جنت کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ صرف آخرت کی جنت نہیں بلکہ اس دنیا کی جنت بھی ہے۔کوئی قوم جسے اس دنیا کی جنت نصیب نہ ہو اُسے آخرت کی جنت کی موسوم امیدوں میں نہیں رہنا چاہیئے وہ محض ایک دیوانے کا خواب ہے، کیونکہ جس کے دل کو اس دنیا میں سکینت نصیب نہیں ہوتی اُسے آخرت میں سبھی سکینت نصیب نہیں ہو سکتی جو اس دنیا میں اندھے ہیں وہ اُس دنیا میں بھی اندھے ہی اٹھائے جائیں گے پس اس پہلو سے مسلمان عورت کی کچھ ذمہ داریاں ہیں جو اس دنیا کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہیں اور اس دنیا کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہیں۔سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ ہر خاتون جوگھر کی ملکہ ہے کیا اس کے گھر میںجنت بن گئی ہے یا نہیں بنی ہے کیا اس کی اولاد میں جنتوں والی علامتیں پائی جاتی ہیں کہ نہیں ؟ اُسے دیکھ کر ہر عورت خود اپنے نفس کا جائزہ لے سکتی ہے اور اس بات کو پرکھ سکتی ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی پیش کردہ کسوٹی کے مطابق میں وہ عورت ہوں کہ نہیں جس کا ذکر میرے آقا و مولا حضرت محمد مصطفے صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اتنے پیار اور اتنے ناز اور اتنے اعتماد کے ساتھ کیا تھا۔مجھے مخاطب کیا میرا ذکر فرمایا اور یہ کہا کہ اسے مسلمان عورت ! جو میں کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئی تجھ سے مجھے یہ توقع ہے کہ تیرے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔پس یہ محض مردوں کے لئے ہی پیغام نہیں ، بچوں کے لئے ہی پیغام نہیں کہ تم اپنی جنت اپنی ماؤں کے پاؤں تلے ڈھونڈو اور بالعموم یہی معنے ہیں جو سمجھے جاتے ہیں اور بیان کئے جاتے ہیں کہ عورت کا ادب کرد۔عورت کی دعائیں لوحالا نکہ اس سے بہت زیادہ وسیع تر معنی عورت کے کردار کے تعلق میں بیان ہوئے ہیں۔اگر ہمارا معاشرہ ہر گھر کوجنت نہیں بنا دیتا تو اس حدیث کی رو سے وہ معاشرہ اسلامی نہیں ہے اور اگر جنت کو جہنم بنانے میں مردوں کا قصور ہے تو یہ قصور محض اس وقت کے دائرے میں محدود نہیں جس میں اس کی شادی ہوئی اور ایک عورت کے ساتھ اس نے ازدواجی زندگی