حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 38

حضور انور کے اس خطاب کے چند اہم نکات ذیل میں پیش کئے جا رہے ہیں آج کے جدید دور میں دنیا کو امن کی تلاش ہے امن کی تلاش میں وہ گلیوں میں بھی نکلتے ہیں، شہروں میں بھی اور ملکوں میں بھی سرگرداں پھرتے ہیں لیکن وہ امن جو گھر میں نصیب ہو سکتا ہے وہ دن بدن ان کے گھروں کو ویران چھوڑتا چلا جا رہا ہے آج کے معاشرہ میں سب سے اہم ضرورت گھروں کی تعمیر نو ہے۔وہی معاشرہ صحیح معاشرہ ہے جو اسلام کی تعلیم پر مبنی ہے اس معاشرہ کا کوئی رنگ نہیں ہے نہ وہ مشرق کا ہے نہ وہ مغرب کا ، نہ وہ سیاہ ہے نہ سفید ده نورانی معاشرہ ہے۔اسی حد تک معاشرے کو عالمگیر کرنا چاہئے اور تمام بنی نوع انسان کی قدرِ مشترک بنانے کی کوشش کرنی چاہیے جس حد تک کسی معاشرے کے پہلو اسلام سے روشنی پا رہے ہیں۔اگر احمدی خواتین نے وہ ماڈل ز پیش کیا تو وقت کے ایک اہم تقاضے کو پورا کرنے سے محروم رہ جائیں گی اور تمام بنی نوع انسان کو امت واحدہ میں اکٹھا کرنے میں ناکام رہیں گی۔یہ تصور کہ مشرقی معاشرہ گویا اسلامی معاشرہ ہے۔غلط ہے۔مشرقی معاشر کے بعض پہلو اسلامی ہیں لیکن کثرت لیکن کثرت سے ایسے پہلو ہیں جو نہ صرف اسلامی نہیں بلکہ مذہبی اقدار کے معاند اور مخالف ہیں مشرقی معاشرہ میں جہاں بظاہر خاندان بڑے ہیں اور ظاہری روابط زیادہ مضبوط ہیں وہاں اندرونی طور پر ایک ایسا نظام چل رہا ہے جو ان روابط کو کاٹتا ہے اور نفرتوں کی تعلیم دیتا ہے۔مغربی دنیا کی خرابیوں میں بہت بڑی خرابی انفرادیت ہے معاشرے میں خود غرضی پیدا ہو چکی ہے۔انفرادیت کی وجہ سے گھر ٹوٹ رہے ہیں اور لذت یابی کے شوق نے قوم کو پاگل کر دیا ہے اور اپنی لذت کی خاطر وہ دوسروں کے امن برباد کرتے ہیں۔گھر ٹوٹنے کے نتیجہ میں سارے معاشرہ میں بے اطمینانی اور بے اعتمادی اور نفرت کی