حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 152 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 152

۱۵۲ ہر وقت اوہ بہتی رہتی ہے۔اس پر محمد بوجھ ہیں۔پھر دین کے کام بھی کرتے ہیں اور اگر عورت یہ سب کام کرے تو مرد سے زیادہ مستعد ہوتی ہے۔میں نے انگلستان میں تجربہ کر کے دیکھا ہے، عورتیں نسبتاً مردوں سے زیادہ وقت ہر قسم کے کاموں میں ، اور دین کے کاموں میں بھی صرف کرتی ہیں اور اگر مرد اور عورت کے اوقات کا مقابلہ کریں تو مجھے یقین ہے کہ عورتوں کے اوقات زیادہ مصروف نظر آئیں گے ، زیادہ بھر پور نظر آئیں گے جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے پس اللہ تعالیٰ نے جہاں آپ پر اولاد کی تربیت کی بعض زائد ذمہ داریاں ڈالی ہیں اور اس کے نتیجہ میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ گھروں میں گھیری گئی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے زیادہ عظمت کے مقام بنتے ہیں اور کئی پہلوؤں سے آپ کو مردوں پر فضیلت ہے۔سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و علیٰ الہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری جنت تمہاری ماؤں کے قدموں میں ہے۔کہیں نہیں فرمایا کہ باپوں کے قدموں میں ہے۔یعنی ساری آئندہ نسلوں کی عورتوں کی بھی اور مردوں کی بھی جنت اُن کی ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔اتنا بڑا مرتبہ و مقام حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ د ستم نے عورت کو دے دیا ہے کہ جس کے بعد دنیا کا کوئی جاہل انسان اسلام پر یہ حملہ نہیں کر سکتا کہ اس میں عورت کا کوئی مقام نہیں ہے۔وہ مقام حاصل کرنے کے لئے جو ذرائع ہیں وہ میسر آنے چاہئیں۔اگر خاوند بیوی سے ہر وقت بد تمیزی سے بات کرتا ہے۔اس کی عزت کا خیال نہیں ، اس کے ماں باپ کی عزت کا خیال نہیں ، بات بات پر طعنے دینے لگ جاتا ہے ، گھٹیا باتیں کرتا ہے اس سے مطالبہ کرتا ہے کہ یہ بھی کرو، وہ بھی کرو اور اس کے با وجود خوش نہیں ہوتا تو ایسا خاوند بسا اوقات خود اپنی بیوی کے پاؤں کے نیچے جہنم پیدا کر رہا ہوتا ہے کیونکہ ایسی عورتیں پھر خود بد اخلاق ہونی شروع ہو جاتی ہیں وہ بھی پھر آگے