حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 14

۱۴ ہے۔اتفاق کی باتیں بھی کی جاتی ہیں تو انتشار کی نیتوں کے ساتھ کی جاتی ہیں۔بڑے بڑے بلند دعا دی کئے جارہے ہیں، مذہبی پلیٹ فارم سے بھی اور سیاسی پلیٹ فارم سے بھی ، کہ ضرورت ہے کہ دنیا کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کیا جائے اور دنیا کو امن سے بھر دیا جائے مگر وہ بلند بانگ دعادی کرنے والے خود امن سے عاری ہیں ، خود منتشر ہیں ان کے ذہن بھی منتشر ہیں، اُن کی نیتیں بھی منتشر ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ وہ دنیا کو امن دے سکیں تمام عالم کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کا مقصد صرف اور صرف ایک ہی صورت میں پورا ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ تمام عالم کو خدائے واحد و یگانہ کی ذات پر اکٹھا کر دیا جائے، اشتراک کی اور کوئی صورت نہیں ہے۔انسانیت کے نام کی باتیں محض فرضی اور خیالی باتیں ہیں در حقیقت میں آج بھی Racialism انسل پستی اسی طرح زندہ ہے جس طرح آج سے سو سال پہلے زندہ تھا۔اُس نے مختلف روپ دھار لئے ہیں۔مختلف شکلوں میں ڈھل چکا ہے۔مگر جغرافیائی تقسیمیں قومی تقسیمیں انسانی تقسیمیں اور مذہبی تقیمیں انسان کو اسی طرح بانٹے ہوئے ہیں جس طرح آج سے پہلے انسان کو بانٹے ہوئے تھیں۔جب بھی دنیا کے راہنما کوئی فیصلہ کرنے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں اُن میں سے ہر ایک اس نیت کے ساتھ وہاں پہنچتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے لئے یا لسانی گروہ کے لئے یا اپنے جغرافیائی علاقے کے لئے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کر کے آئے۔انصاف کا کوئی تصور وہاں کار فرما نہیں ہوتا۔پس انصاف کے بغیر دنیا کو کیسے امن سے بھرا جا سکتا ہے ؟ انصاف کا تصور خدائے واحد و یگانہ کے تصور کے بغیر علمی تصور نہیں بنتا بلکہ علاقائی تصورین جاتا ہے۔Absolute justice (شکل انصاف) صرف اور صرف خدا کی ذات کے تعلق میں قائم ہو سکتا ہے اس کے بغیر اس کا کوئی وجود نہیں اور انسان کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا بھی خدائے واحد و یگانہ کی ذات پر ان کو اکٹھا کرنا ہے۔اس کے سوا سب خیالی اور فرضی باتیں ہیں ، ڈھکوسلے ہیں، دھوکا بازیاں ہیں محض لفاظیاں ہیں۔ان میں کوئی حقیقت نہیں لیکن خدائے واحد و لیگانہ کے نام پر کیسے اکٹھا کیا جائے۔یہ وہ بڑا مسئلہ ہے جو ہمیں درپیش ہے۔جماعت