حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 126
ایک بچگانہ جواب ہے۔خیر و بھی ہے میں اس جاب کو قبول نہیں کرتا۔مگرمیں آپ کو یہ بات اس لئے نہیں بتارہا کہ آپ کی صدارت یا آپ کی لیڈرشپ غلط ہے۔یہ میں آپ کو اس لئے بتا رہا ہوں کہ ایسی باتیں مختلف Levels (مدارج) پر ہوتی رہتی ہیں ان سے عہدہ براء ہونے کے لئے تربیت کی ضرورت ہے ان کو بھی اپنی اصلاح کرنی چاہیئے۔ادھر آپ میں سے جو خاتون بھی عہدہ پر فائز ہو اسے اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیئے کہ اس طرح جذبات سے کھیلنا کہ جس کی وجہ سے کوئی شخص بہتک عزت محسوس کرے اور تکلیف محسوس کرے بعض دفعہ بڑے خطرناک نتائج پیدا کرتا ہے ، ایک فرد کو ہی نہیں ایک خاندان کو بھی احمدیت سے دور پھینک دیتا ہے۔خدمت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔اپنے جذبات کا چنداں خیال نہ کریں اپنے آپ پر رحم نہ کریں لیکن دوسرے کے جذبات کا ضرور خیال کیا کریں اور دوسروں کے لئے رحم کا جذبہ پیدا کریں۔نظم وضبط اپنی جگہ ہے اور رحم اپنی جگہ ہے۔ان دونوں کے درمیان تضاد اور ٹکراؤ نہیں ہونا چاہئے مگر ایک کو دیو کے پر قربان بھی نہیں کیا جاسکتا۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے کہ ان نصیحتوں کو سمجھیں اور جو وقت کے تقاضے ہیں ان کو پورا کرنے کے لئے مستعد ہو جائیں۔اگر حیا کی حفاظت کے سلسلہ میں کوئی غلطیاں ہوئی بین تو استغفار کریں اور نظام جماعت کے طور پر بھی اور افراد جماعت کے طور پر بھی حیا کا جھنڈا بلند کرنے کے لئے ایک جہاد شروع کریں۔اگر آپ ایسا کریں گی تو مغرب کو بھی اُس کی کھوئی ہوئی قدر واپس دلانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔اس قدر کا واپس ہونا اور سجال ہونا خود مغربی تہذیب کی حفاظت کے لئے بھی اشد ضروری ہے۔اس کی محرومی کی وجہ سے وہ کئی قسم کی بلاؤں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔