حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 118
HA کے متعلق قرآن نے وارننگ دی ہوئی ہے کہ خبردار اس برائی میں مبتلا نہ ہوتا کیونکہ یہ قوموں کو بلاک کر دیا کرتی ہے۔ایسی عورت میں اس بڑائی میں مبتلا ہوتی چلی جاتی ہیں۔اور خود اپنے ہاتھوں اپنی نیکیوں کو برباد کرتی چلی جاتی ہیں وہ بدی کو سونی مٹی میں پھیلانے کی مجرم بن جاتی ہیں۔ان کی باتوں سے دوسری سننے والی عورتوں میں بدی کے لئے ولولے اور حوصلے پیدا ہوتے ہیں۔ان کی باتوں پر سننے والی خواہ کتنی ہی دفعہ کانوں کو ہاتھ لگا کر استَغْفِرُ اللہ پڑھے اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ دوسری عورت میں تو ایسا کر رہی ہیں میں ہی ایک ایسی رہ گئی ہوں میں کیلئے دین حق - ناقل اور سلسہ کی پابندیاں لازم ہوں۔پھر رفتہ رفتہ جب بے حیائی پھیلتی ہے تو وہ کہتی ہے ایسی بھی کوئی بات نہیں فلاں تو ایسا کرتا ہے ہم کیوں نہ کریں۔ایسی صورت میں لبنات کی کارکنات پاس مسلہ کے دوسرے کام کرنے والوں کی بیویوں اور بچوں پر نظر رکھتی ہیں اور اگر ان میں کوئی نقص دیکھیں تو اور زیادہ ان کو یہ بہانہ ہاتھ آ جاتا ہے کہ وہ پابندیوں کی خلاف ورزی کریں۔وہ کہتی ہیں فلاں ایسا کرتا ہے تو اسے کوئی کچھ نہیں کہتا میں کروں تو میری دفعہ بڑی تکلیف ہوتی ہے۔اس طرح نصیحت کارگر ہونے کا ماحول ضائع ہو جاتا ہے۔جس طرح صحرا میں کوئی پودا لگ نہیں سکتا اسی طرح ایسے ماحول میں نصیحت کارگر نہیں ہوتی۔جب شدت کی دھوپ پڑتی ہو ، جب خشک سالی کا موسم ہو تو سب سے زیادہ ویران وہ ریتلا علاقہ ہوتا ہے جہاں قسمت سے کچھ بارش ہو تو کچھ اگتا ہے دور نہ کچھ آگتا ہی نہیں۔یہ جو عورتوں کے بلا جواز باتوں کے چھوٹے چھوٹے چسکے ہیں یہ سوسائٹی کو ویرانوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔پھر ایسے ویرانوں میں روحانیت کا پودا لگ ہی نہیں سکتا اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری قوم تباہی کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔تجسس اور بین کا باہمی فرق زبان کے ان چھوٹے چھوٹے چیکوں کا معاملہ معمولی بات نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے