حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 117
اب وہ باتیں مختلف لاگروں کے متعلق ہوں یا مختلف گھروں یا بعض بچوں بچوں کے متعلق ہوں ایسی باتیں کرنا سراسر نا جائز ہے۔ایسی عورتیں زبان کے چسکے لیتی ہیں اور فحشاء پھیلانے کا موجب بنتی ہیں۔ایسی باتیں نصیحت کی خاطر نہیں ہو تیں کیونکہ نصیحت تو اس کو کرنی چاہیئے ہو نصیحت کا محتاج ہے۔اس کو تو نصیحت نہیں کہتے کہ ایک عورت گھر سے نکلتی ہے، دوسری ہمسائی کے گھر پہنچتی ہے اور کہتی ہے تمہیں پتہ ہے فلاں جگہ کیا ہو رہا ہے۔وہ کام چھوڑ کے کہتی ہے بتاؤ مجھے کیا ہورہا ہے۔وہ کہتی ہے وہاں تو لڑکیاں اس طرح کرتی ہیں اور لڑکے اس طرح کرتے ہیں، یہ ہو رہا ہے وہ ہو رہا ہے، کسی کو ہوش ہی کوئی نہیں۔وہ کہتی ہے اچھا یہ ہورہا ہے۔ہمارے محلہ میں ایسی باتوں میں اول تو بہت سا حصہ بھوٹ ہوتا ہے۔مبالغہ آمیزی ہوتی ہے۔دوسر جب وہ عورت بات سُن کر آگے پہنچاتی ہے تو اس کو مزہ نہیں آتا جب تک وہ دو چار باتیں ساتھ زائد نہ لگا دے حتی کہ پر کا کوا بنتا چلا جاتا ہے۔قوموں کو بلاک کر دینے والی برائی اس طرح سوسائٹی میں ایسی بھیانک خبری پھیلنا شروع ہو جاتی ہیں جو گندی ہوتی ہیں اور ہوتی بھی جھوٹی ہیں اور حد سے زیادہ مبالغہ آمیز ان کا نہایت مہلک اثر سوسائٹی پر دو طرح سے پڑتا ہے۔اول تو وہ عورتیں جو فخشاد کو پھیلانے کا موجب بن جاتی ہیں وہ خدا کی نظر میں پیاری نہیں رہیں۔الٹ ان کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔ان کے درمیان سے برکتیں اُٹھ جاتی ہیں۔خدا کے پیار کی مستحق ہونے کی بجائے وہ اُس کی ناپسندیدگی اور ناراضنگی مول لے لیتی ہیں۔چونکہ اس مرض کے عورتوں میں پھیلنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔اس لئے خطرہ یہ ہوتا ہے کہ پوری سوسائٹی ہی اس میں ملوث نہ ہو جائے۔اور اگر خدانخواستہ ساری سوسائٹی ہی ملوث ہو گئی تو ہوگا یہ کہ بظاہر ساری عورتیں نیکیاں بھی کر رہی ہوں گی۔چندے بھی دے رہی ہوں گی، قرآن بھی پڑھ رہی ہوں گی لیکن ایک ایسے بنیادی حکم کی خلاف ورزی کرتی چلی جارہی ہوں گی میں