حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 78

دیتی ہیں یا ساتھ نہ لے جانے کے لئے بہانہ بنا دیتی ہیں ایسی مائیں ہمیشہ جھوٹی نسلیں پیدا کرتی ہیں اور وہ بچے کبھی بھی اپنی ماؤں کی باتیں نہیں مانتے بلکہ غیر شعوری طور پر انہیں دوسروں کو دھوکہ دینے کے سبق مل جاتے ہیں۔بعض دفعہ مائیں خود نیک بھی ہوں لیکن وہ کجھتی ہیں کہ بچے کو ٹالنا معمولی بات ہے یہ تو کوئی گناہ ہی نہیں یا بچے سے کوئی وعدہ کیا اور اُسے بھٹیا دیا تواس میں کوئی خاص بڑی بات نہیں ہے بچوں کے ساتھ تو اسی طرح ہوا کرتا ہے اور وہ نہیں جانتیں کہ وہ بچے کا مستقبل خود اپنے ہاتھوں سے ہمیشہ کے لئے برباد کر دیتی ہیں۔ایک دفعہ میں نے ایک چھوٹا سا نظارہ اس طرح دیکھا کہ ایک باپ نے اپنے بچے کو پونڈے گنے کا ایک ٹکڑا دیا ہوا تھا اور سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے اس کی ماں بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی اُس نے دیکھا کہ بچے سے سنبھال نہیں جاتا تواس نے کہا کہ بیٹا یہ مجھے پکڑا دو میں اوپر جاکر تمہیں واپس کر دوں گی۔اُس نے کہا جائیں جائیں ! میں نے آپ کو دیکھا ہوا ہے ! اوپر پہنچتے پہنچتے آپ آدھا کھا جائیں گی۔اب یہ بات چھوٹی سی ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس رد عمل نے میرا دل ہلا دیا۔مجھے سامنے خطرات نظر آئے کہ اس بچے کا مستقبل شاید ٹھیک نہ ہے کیونکہ جو اپنی ماں پر اعتماد نہیں کر سکتا وہ دوسروں پر کیسے اعتماد کرے گا۔پس ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں آپ جنت بھی پاتی ہیں اورجہنم بھی پاتی ہیں۔آپ کو اختیار ہے کہ جہنم کو قبول کر لیں یا جنت کو قبول کر لیں پس آئندہ کی قوم آپ کے پاؤں سے وابستہ ہو۔چکی ہے۔آئندہ کی نسل آپ کے قدموں سے وابستہ ہو چکی ہے۔اس کے لئے اس دنیا میں جنت چھوڑیں تو دیکھیں کہ اللہ کے فضل کے ساتھ ان کی اخروی جنت کی ضمانت بھی یقینا مہیا ہو جائے گی۔یہ چند پہلو ہیں جن کی اور بھی بہت سی شاخیں ہیں اور یہ مضمون ایسا ہے جو بڑی تفصیل کا محتاج ہے تاکہ مثالیں دے دے کر آپ کو سمجھایا جائے کہ کہاں کہاں ٹھوکر کا مقام ہے۔کہاں کہاں بچنے کی ضرورت ہے کس طرز عمل کو اختیار کی جائے گر میں امید رکھتا ہوں