حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 60
جیتنے کی کوشش بھی تو کریں اور اسی طرح ہوئیں بھی یہ نہ مجھیں کہ غیر کے گھر میں آئی ہیں اور ہاں آکر وہ اپنے ہی گھر کے تذکرے کرتی رہیں اور اپنے ماں باپ کو یاد کرتی رہیں بلکہ قرآنی تعلیم کے مطابق جہاں دونوں کے رحمی رشتوں کا احترام کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اگر وہ یہ کوشش کریں کہ میں اُن کی بیٹی بن کر رہوں اور اپنے ماں باپ کی طرح ان کا خیال رکھوں اور ان کی خدمت کروں تو دونوں طرف سے یہ حسن سلوک معاشرے کو جنت بنا سکتا ہے۔یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن اتنے بڑے بڑے بدنتائج پیدا کرتی ہیں کہ اس کے نتیجہ میں سارا معاشرہ دکھوں میں مبتلا ہو جاتا ہے ہمصیبتوں میں اور عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔گھر ٹوٹتے ہیں۔شادیاں ناکام سوتی ہیں اور پھر بعض دفعہ قضا کی طرف دوڑنا پڑتا ہے۔بعض دفعہ عدالتوں کے پھیرے لگانے پڑتے ہیں لیکن ہر دفعہ ہر جگہ ہر موقعہ پر خرابی کی جڑھ اسلامی تعلیم سے روگردانی ہی نظر آئے گی۔ایک اہم پیغام پس اگر آپ نے دنیا کو امن عطا کرنا ہے تو احمدی خواتین کا فرض ہے خواہ وہ مشرق میں بسنے والی ہوں یا مغرب میں بسنے والی ہوں کہ اپنے گھروں کو اپنے دینی۔۔۔ناقل گھروں کا ماڈل بنائیں تاکہ باہر سے آنے والے جب اُن کو دیکھیں تو ان کو پتہ لگے کہ انہوں نے کیا حاصل کیا ہے اور تمام دنیا میں وہ ایسے پاک نمونے پیش کریں جس کے نتیجہ میں بنی نوع انسان دوبارہ گھر کی کھوئی ہوئی جنت کو حاصل کر لیں۔وہ جنت جس کا قرآن کریم میں آدم کی ابتدائی تاریخ میں ذکر ملتا ہے اس کا ئیں سمجھتا ہوں کہ گھر کی جنت سے بڑا گہرا تعلق ہے۔چنانچہ بائیل نے جو سزائیں تجویز کی ہیں اگر چہ قرآن کریم نے ان کا ذکر نہیں فرمایا لیکن ان سزاؤں کا گھروں سے ضرور تعلق ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے لئے آج کا بہت ہی اہم پیغام یہی ہے کہ