حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 28
PA آجاتے ہیں اور جب ذرا گندے ہوئے تو مائیں سنبھالیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے۔اس لئے کہ ماؤں کو اپنے بچوں سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ایک محبت ہے مزے اٹھانے کی محبت اور ایک محبت ہے ان مزوں کی خاطر تکلیف میں مبتلا ہونے کی محبت۔ان دونوں محبتوں میں فرق ہے۔پس جب تک آپ کو خدا سے ایسی محبت نہ ہو کہ اس کے نتیجہ میں زخم دمر تم برابر نہ ہو جائیں اُس وقت تک آپ دنیا کا کوئی علاج نہیں کر سکتے۔ورنہ یہ سر دردی ہوگی ایک بھیڑا ہوگا ہر وقت کی مصیبت ہوگی لیکن پیار ہو تو یہ سب چیزیں، سب راہیں آسان ہو جایا کرتی ہیں حضور فرماتے ہیں۔تانه دیوانه شدم، ہوش نیامد بسرم اے جنوں با گرد تو گردم که چرا حال کردی اسے محبت جب تک تو نے مجھے پاگل نہیں بنا دیا مجھے ہوش نہیں آئی مجھے معرفت نصیب نہیں ہوئی۔اسے جنوں میں تیرے گرد مجنوں کی طرح گھوموں کیونکہ تو نے مجھے وہ عطا کر دیا جو خرد مجھے عطا نہیں کر سکتی پس محبت کا جنون ہے جو دنیا میں پاک تبدیلیاں پیدا کرے گا اور اس محبت کا سفر انفرادی طور پر ہر شخص کو کرنا ہوگا۔آج سب سے زیادہ اس محبت کے سفر کی احمدی خواتین کو ضرورت ہے۔احمدی بچیوں کو ضرورت ہے۔کیونکہ انہوں نے کل کی مائیں بنا ہے۔یہ مطلب نہیں کہ مردوں کو ضرورت نین مردوں کو لازما ضرورت ہے مگر وہ ماؤں سے یہ فیض پائیں گے کیونکہ مردوں کی جنتیں اُن کی ماؤں کے پاؤں کے نیچے رکھی گئی ہیں اور جنت کی بہترین تعریف اللہ کی محبت ہے۔یہاں بعض لوگ بلکہ اکثر جنت کا لفظ سنتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ماؤں کے پاؤں کے نیچے سے سید ھے آپ جنت کے باغوں میں پہنچ جائیں گے۔حالانکہ اصل جنت کی تعریف خدا کی محبت ہے۔حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) فرماتے ہیں۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں یعنی دنیا تو دوسری جنتیں ڈھونڈتی ہے ہیں تو سوائے اس کے کوئی جنت دکھائی