حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 148
ہیں اور اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری ہاؤں پر ہے۔بچوں کی تربیت کے لئے وقت خرچ کریں اگر ماؤں کو ان کاموں کے لئے وقت نہ دیا جائے ، ان کاموں کے لئے سہولت نہ دی جائے تو پھر والدین پر بھی اس کی ذمہ داری ہوگی اور اس پہلو سے چونکہ والد یا لبعض فرد جنہوں نے آئندہ والدنیا ہے جو یہ بات سن رہے ہیں ان کو میں بجھانا چاہتا ہوں کہ اسلام نے کمانے کی ذمہ داری مرد پر رکھی ہے اس میں گہری حکمتیں ہیں۔اگرچہ عورت کو یہ آزادی دی ہے کہ حسب ضرورت وہ کمائے اور اپنی ضروریات پوری کرے لیکن اس وقت جب وہ مجبور ہو پیشہ کے طور پر کمانے کی ذمہ داری مردوں کی رکھی گئی ہے اور قرآن کریم نے کھول کر بیان کیا ہے کہ مردوں پر عورتوں کا یہ حق ہے کہ وہ اُن کے لئے جس حد تک ممکن ہے آسائش کی زندگی کے سامان پیدا کریں اور ان کی ساری ضروریات کا خیال رکھیں۔یہ اس لئے ضروری ہے کہ ماؤں کے پاس اگر وقت ہو گا، سہولت ہوگی ، اچھے ماحول میں زندگی کیبر کر رہی ہوں گی تو وہ آئندہ نسل کی تربیت کر سکیں گی۔اگر بھاگ دوڑ ہو گی کہ انہوں نے بھی کام پر جانا ہے۔بچے کسی کے سپرد کئے اور آپ بھاگ گئیں یا دوسری دلچسپیوں میں اُن کا وقت لگتا ہے۔بعض عورتیں میں نے دیکھی ہیں کہ سنگھار پٹار میں ہی ان کے دو دو تین تین گھنٹے ضائع ہو جاتے ہیں۔اور بن کر تیار ہو کر باہر نکلنے کے لئے قریباً آدھا دن تو اسی میں لگ جاتا ہے۔اللہ کے فضل سے اس قسم کی عورتیں یہاں نہیں ہیں۔کیونکہ میں جانتا ہوں آپ سب لوگ ہمت والی ، کام کرنے والی عورتیں ہیں۔آپ کو وقت ہی نہیں ملتا لیکن جن خاندانوں میں بدنصیبی سے آسائشیں آجائیں اُن کا یہ حال ہو جایا کرتا ہے اور اس حال کی طرف ہر عورت منتقل ہونے کا خطرہ اپنے اندر رکھتی ہے کیونکہ مزاج اس کو یہ بات اچھی لگتی ہے۔اس لئے مجب میں کہتا ہوں کہ آپ کے لئے کھلا وقت چاہیے تو ہیں اس لئے نہیں کہہ رہا کہ