حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 125 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 125

۱۲۵ ابھی آپ کے سامنے بیان کیا تھا اس کا مجھے جو تفصیلی جواب نظام جماعت کی طرف سے ملا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اس بچی کو جو اول آئی تھی پہلے انعام مل چکا تھا، جب غلطی سے اس کا نام دوبارہ یول گیا تو اس نے کیوں نہیں کہا کہ مجھے تو انعام مل چکا ہے۔وہ جھوٹ بولتی ہے کہ ہم نے اس سے النعام واپس لے کر اس پر ظلم کیا، اس نے کیوں نہ بتایا کہ غلطی سے اس کا نام پکارا گیا ہے اس لئے مجھے انعام نہ دیا جائے۔۔۔۔یہ سب بچگانہ باتیں ہیں۔انعام لینے کا شوق ہر شخص کو ہوتا ہے۔جس شخص کو نام لے کر پکارا اور بلایا جائے وہ بہر حال جذبہ شوق سے مغلوب ہو کر دوڑا دوڑا آئے گا۔اگر نظام نے غلطی سے ایک انعام دوبارہ دے دیا ہے تو اس سے انعام واپس لینے کا طریق اور ہے نظام کو چاہیے کہ اس سے علیحدگی میں ایسے وقت جبکہ وہ بے عزتی محسوس نہ کرے اُسے یاد دلائے کہ بی بی ہم سے غلطی ہو گئی ہے ہم معافی چاہتے ہیں آپ کو یہ انعام دوسری دفعہ دے دیا گیا ہے اس لئے آپ یہ انعام واپس کر دیں۔یہ حسنِ خلق کا تقاضا ہے جسے ایسی صورت میں پورا کرنا ضروری ہے۔بصورت دیگر اگر مبھری مجلس میں ایک نو جوان بچی کو رد کیا جائے تو لازما اس کو ٹھوکر لگے گی۔پس لجنہ بہت اچھا کام کر رہی ہے بڑی محنت سے کام کر رہی ہے لیکن لجنہ کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس طرح وہ اپنے جذبات کا خیال رکھتی ہیں اور خلیفہ وقت کی طرف سے جواب طلبی پر بھی دُکھ محسوس کرتی ہیں وہ اسی طرح اپنی ماتحت احمدی بچیوں کے جذبات کا بھی خیال کریں ان کی حرمت کا بھی خیال کیا کریں ان کی حرمت کا بھی احساس کیا کریں۔اگر غلطی سے کوئی انعام زیادہ چلا گیا تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔پھر اس انعام کا پبلک میں واپسی لینا یقیناً ہر شخص کے لئے بہت ہی تکلیف دہ تجربہ ہے غلطی آپ کی ہے ، آپ نے دوبارہ انعام دیا سی کیوں اور اگر غلطی سے دوبارہ انعام دے دیا تھا اور ضرور واپس لینا ہی تھا تو بعد میں لینا چاہیے تھا اور اگر واپس نہ بھی لیں تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑے گی۔لجنہ اتنی غریب تو نہیں ہے کہ ایک چھوٹا سا میڈل دوسری دفعہ دے کر ان کا دیوالیہ پٹ جائے گا۔اس لئے لجنہ کا جواب