ہستی باری تعالیٰ — Page 2
ہیں دیکھو ملائکہ کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ کی مخلوق اور اس کی طرف سے مختلف کاموں پر مقرر ہیں۔نبی کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے بھیجے ہوئے۔آسمانی کتابیں کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ کا کلام۔دُعا کیا ہے؟ خدا تعالیٰ کے حضور التجا۔نماز، روزہ، حج، زکوۃ کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ کی عبادات۔بندوں سے حسن سلوک کیا ہے؟ اپنے محبوب کے پیاروں سے پیار اور اس ذریعہ سے اپنے محبوب سے ملنے کی خواہش اور اس کے انعامات کی اُمید۔غرض سارے کے سارے مضمون اس کے گرد اس طرح گھومتے ہیں جس طرح چاند سورج کے گرد گھومتا ہے۔کے مضمون کی ضرورت میرا مضمون خدا تعالیٰ کی ہستی کو ثابت کرنا نہیں بلکہ ذات باری ہے مگر چونکہ اس کا یہ بھی حصہ ہے اس لئے بیان کرتا ہوں۔اس زمانہ میں گناہ اور بدی کی کثرت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ خدا کا انکار کرتے ہیں اور سب بد یاں اور گناہ خدا کو نہ سمجھنے اور اس پر حقیقی ایمان نہ لانے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے بھی اس مضمون کو سمجھنے کی بہت ضرورت ہے۔پھر یورپ کی تعلیم نے کالج کے لڑکوں کو بالکل آزاد بنادیا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا جاہل تھے جو خدا کو مانتے تھے۔نہ کوئی خدا ہے اور نہ اس کے ماننے کی ضرورت۔میں حج کے لئے گیا تو میرے ساتھ جہاز میں تین طالب علم بھی تھے جو ولایت جارہے تھے۔ان میں سے دو مسلمان تھے اور ایک ہندو۔ان کی ایک پادری سے بحث ہوئی جسے سُن کر مجھے اس خیال سے خوشی ہوئی کہ انہیں بھی مذہب سے تعلق ہے۔یہ سمجھ کر میں نے ان سے کوئی مذہبی بات کی تو وہ تینوں بول اٹھے کہ کیا آپ کا یہ مطلب ہے کہ ہم خدا کو مانتے ہیں۔میں نے کہا ہاں۔پادری صاحب سے جو آ