ہستی باری تعالیٰ — Page 55
۵۵ چیزیں جلا کر اور راکھ کر کے زیادہ مفید ہوتی ہیں۔تیسرا جواب یہ ہے کہ بیشک بعض چیزیں انسان کے لئے ضائع ہو جاتی ہوں مگر خدا تعالیٰ کی نسبت یہ لفظ کیونکر بولے جا سکتے ہیں۔مرنے والے جانور یا سٹر جانے والی بوٹیاں انسان کے لئے تو ضائع ہو گئیں۔کیا خدا کے لئے بھی ضائع ہو گئیں۔کیا وہ بھی ان سے فائدہ اُٹھاتا تھا کہ اس کے لئے ضائع ہوئیں۔دوسرے جب وہ ان اشیاء کا خالق ہے تو وہ جس حال میں ہوں وہ اس کے قبضہ میں ہیں وہ اس کے لئے ضائع ہو کس طرح سکتی ہیں؟ خدا کے ہاتھ سے نکل کر کوئی چیز کہاں جاسکتی ہے۔ان چیزوں کی ہلاکت کی مثال تو یہ ہے کہ ایک مکان کی اینٹیں اکھیڑ لی جائیں۔وہ مکان بیشک گر جائے گالیکن اینٹیں گھر میں ہی رہیں گی جو دوسرے مکان میں استعمال ہو جائیں گی۔اسی طرح پیدا کرنا اور مارنا درحقیقت استعمال کے تغیر کا نام ہے۔خدا تعالیٰ کے لئے مخلوق کا مرنا اور پیدا ہونا نہ حقیقتاً مرنا ہے نہ پیدا ہوتا ہے۔تیسرا اعتراض اور جواب ایک اور بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ غلط ہے کہ انسان جو پیدا ہوا اسے اس قسم کی انگلیاں اس لئے دی گئیں کہ وہ لکھ سکے یا اور جو اعضاء اسے دیئے گئے ہیں وہ اس لئے دیئے گئے کہ دوسری چیزوں سے فائدہ اُٹھا سکے بلکہ بات یہ ہے کہ انسان اس لئے ایسا پیدا ہؤا کہ ارتقاء کا دوسرا قدم ایسے ہی انسان پیدا کرنے کی طرف اُٹھ رہا تھا جیسے جس قسم کے برتن میں پانی ڈالا جائے ویسی ہی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ایک جانور کی لمبی گردن مثلاً اس لئے ہو گئی کہ اس کی غذاء اونچے درخت پر تھی۔اسی طرح جانوروں کی کھالوں نے ویسے