ہستی باری تعالیٰ — Page 51
۵۱ پانچویں دلیل۔دلیل انتظامی اب میں پانچویں دلیل لیتا ہوں۔پانچویں دلیل جس کو دلیل انتظامی کہنا چاہئے اور جو چوتھی دلیل کی ہی درحقیقت ایک ترقی یافتہ صورت ہے اور اس میں دُنیا کے وجود سے کسی خالق پر استدلال نہیں کیا جاتا بلکہ دنیا کے انتظام سے خالق پر استدلال کیا جاتا ہے۔دُنیا کا انتظام پر ایک بہت زبردست دلیل ہے۔بیشک کوئی شخص فرض کرے کہ زمین اتفاقاً پیدا ہو گئی۔لیکن اس کا ئنات میں اکیلا ہی کتر نہیں اس کے علاوہ اور بھی کرے ہیں اور وہ سب الگ کام نہیں کر رہے بلکہ ایک قانون کے ماتحت اور تقسیم عمل کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔ایک چیز کے بغیر دوسری مکمل نہیں اور ایک کے کام میں دوسری دخل نہیں دیتی۔یہ بھی فرض کر لو کہ انسان آپ ہی پیدا ہو گیا۔مگر اس امر کو کس طرح فرض کر لیا جائے کہ انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی تمام عالم کو بھی اسی مناسبت پر پیدا کیا گیا ہے کہ وہ انسان کی ضروریات کو خواہ وہ کسقد رہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہوں پورا کر رہا ہے۔پھر جزئیات کولو۔انسان کو پیدا کیا گیا۔اس کے ساتھ ہی انسان کے ہاتھ ایسے ہیں جو لکھنے کی طاقت رکھتے ہیں۔انسان کو ایسا دماغ ملا تھا جو علم کو محفوظ کرنے کا خواہشمند تھا۔اسے ہاتھ بھی ایسے دیے گئے جو لکھنے کے لئے بہترین آلہ ہیں۔اگر اتفاق سے انسان پیدا ہو گیا تھا تو چاہئے تھا کہ اسے دماغ تو وہ ملتا جو علم کے محفوظ رکھنے کا خواہش مند ہوتا مگر ہاتھ مثلاً ریچھ کے سے ہوتے۔دماغی ترقی کے بالکل مناسب حال جسمانی بناوٹ اسی طرح بدلتی گئی ہے کہ اس کا طبعی بناوٹ کی ضرورت یا عدم ضرورت کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں۔یہ محض اتفاق کیونکر کہلا سکتا ہے؟ اسی طرح مثلاً انسان کو آنکھیں ملی ہیں تو دوسری طرف دیکھو