ہستی باری تعالیٰ — Page 44
بهام سهام لوگوں اور فلاسفروں کا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا ایک صفت کی طرح ہے مگر یہ خیال بھی درست نہیں کیونکہ (۱) دُنیا صفت نہیں بلکہ اس میں ایک ارتقاء ہے۔ایک چیز ہمیں نظر آتی ہے جو برابر ترقی کرتی جاتی ہے۔پس اسے صفت قرار دینا بالکل غلط ہے صفت تو وہ تب ہوتی اگر یکدم بنتی۔لیکن جبکہ وہ بعض قوانین کے مطابق ترقی کرتے کرتے اس حالت کو پہنچی ہے تو معلوم ہوا کہ وہ آپ ہی آپ ہے۔کسی اور ہستی کی پیدا کردہ نہیں ہے۔(۲) پھر یہ سوال ہے کہ اس نے اس دنیا کو کس چیز سے پیدا کیا ہے۔صناع لو ہے چاندی کی چیزیں تو بنا سکتا ہے مگر وہ لوہا، چاندی نہیں بنا سکتا۔پھر اس دُنیا کو کس چیز سے بنایا؟ اگر مصالحہ پہلے سے موجود تھا تو پھر وہی اعتراض موجود ہے کہ وہ کیونکر بنا؟ اور اگر وہ آپ ہی آپ بنا ہوا تھا تو کیوں آپ ہی آپ بجڑ نہیں سکتا تھا اور اگر اسے کسی اور ہستی نے پیدا کیا ہے تو اسے عقل تسلیم نہیں کرتی۔(۳) فضاء کو بھی مخلوق ماننا پڑے گا کیونکہ اگر مادہ بعد میں پیدا ہوا ہے تو ضرور ہے کہ خلا بھی بعد کی ہی تھے ہو اور جہات بھی بعد کی مخلوق ہوں۔مگر خلا سے خکو اور جہات سے آزادی انسانی ذہن میں نہیں آسکتی۔(۴) اسی طرح پھر یہ سوال بھی پیدا ہوگا کہ جس نے اس دنیا کو پیدا کیا ہے اسے کس نے پیدا کیا ہے؟ (۵) پھر یہ سوال پیدا ہوگا کہ وہ محدود ہے کہ غیر محدود ہے۔جس طرح کہ مادے کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے اور دونوں جوابوں میں سے کوئی جواب بھی دیا جائے ، اس پر ایک لمبا چکر سوالوں کا شروع ہو جائے گا۔