ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 173

۱۷۳ کہ نیست سے ہست کیونکر ہو گیا ؟ جو لوگ اس سوال کا جواب نہ دے سکے انہوں نے اس طریق کو اختیار کر لیا کہ دنیا میں سب کچھ خدا ہی خدا ہے اور یہ عقیدہ بنا کر انہوں نے صوفیاء کے کلام کے اس قسم کے فقرات کو آڑ بنالیا کہ دنیا میں جو کچھ ہے سب خدا ہی خدا ہے اور سب کچھ خدا کا ہی جلوہ ہے حالانکہ محی الدین ابن عربی ” جن کو اس خیال کا بانی قرار دیا جاتا ہے ان کی کتب میں بھی غیر اللہ کے الفاظ آئے ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس طرح اس مسئلہ کے قائل نہ تھے۔دراصل یہ دھوکا ہے جو صوفیاء کے کلام کے متعلق دیا جاتا ہے کیونکہ جس اعلیٰ درجہ کے صوفی کے کلام کو بھی دیکھا جائے یہی معلوم ہوگا کہ اس قسم کا کلام تشبیہی ہوتا ہے ورنہ در اصل بات یہی ہے کہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ خدا اور ہے اور ہم اور۔وحدت شہود کا عقیدہ وحدت وجود کے مقابلہ میں وحدت شہود کا عقیدہ ہے اس عقیدے کو ماننے والے کئی فرقوں میں منقسم ہیں اول وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ خدا اور ہے اور مخلوق اور ہے اور خدا مجسم ہے محدود ہے عرش پر بیٹھا ہے وہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ایسا ماننے میں حرج ہی کیا ہے؟ اگر پوچھا جائے کہ کیا خدا کے بھی ہاتھ پاؤں ہیں؟ تو کہتے ہیں ہاں ہیں۔مگر انسانوں کی نسبت اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ خدا مجسم ہے اور ان کو مجسمیہ کہتے ہیں۔دوسر ارو (۲) ایک اور لوگ ہیں جو اہلحدیث کہلاتے ہیں یا وہ جو علوم کو زیادہ تر ظاہر کی