ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 136

IPY تیسرے وہ اعمال جو مختلف قوموں میں عاجزی اور انکساری کے لئے اختیار کئے گئے ہیں ان میں سے جو حد درجہ کے انتہائی عاجزی کے اعمال ہیں ان کو خدا کے سوا کسی اور کے لئے کرنا شرک ہے۔مثلاً سجدہ ہے انتہائی تذلیل اور ادب کا ذریعہ یہی ہے کہ سجدہ کیا جائے۔اس سے بڑھ کر اور کوئی طریق نہیں کیونکہ اس میں انسان اپنے آپ کو گویا خاک میں ملا دیتا ہے اس سے بڑھ کر تذلیل کا ذریعہ انسانی عقل تجویز ہی نہیں کر سکتی۔پس یہ عمل صرف خدا کے لئے ہی کرنا چاہئے اور کسی کے لئے نہیں کرنا چاہئے تا خدا تعالیٰ میں اور دوسرے وجودوں میں امتیاز قائم رہے۔اس خصوصیت کی نسبت یہ خیال کر لینا چاہتے کہ جس قدر اعمال انکسار اور تذلل کے تھے خدا تعالیٰ نے ان کے متعلق کہا کہ ان میں سے ایک میرے لئے رکھ دو اور باقی بیشک اوروں کے لئے استعمال کرو۔یہ نہیں ہوسکتا کہ وہی میرے لئے اور وہی دوسروں کے لئے کیونکہ یہ میری شان کے خلاف ہے اس لئے میرے لئے ایک عمل کو علیحدہ کر دو اگر وہ عمل اوروں کے لئے کرو گے تو اس کا یہ مطلب لیا جائے گا کہ تم ان کو بھی میرے برابر قرار دیتے ہو۔سجدہ کے علاوہ مختلف اقوام میں مختلف حرکات بدن انتہائی تذلل کے لئے سمجھی گئی ہیں جیسے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا، رکوع، دوزانو ہوکر بیٹھنا، ان سب کو خدا تعالیٰ نے اپنے لئے مخصوص کر لیا ہے اور عبادت الہی کا حصہ بنا دیا ہے۔پس یہ عمل اب اور کسی کے لئے کرنے جائز نہیں ہیں اور شرک میں داخل ہیں۔شرک کی چوتھی قسم چوتھی قسم شرک کی یہ ہے کہ اسباب ظاہری کے متعلق یہ سمجھے کہ ان سے میری سب ضروریات پوری ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ کے تصرف کا خیال دل سے مٹادے اور یہ خیال