ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 105

۱۰۵ میں عیب کر نیوالے کم ہوتے ہیں۔کیونکہ اس میں داخل وہی کیا جاتا ہے جس کے متعلق اطمینان کر لیا جاتا ہے کہ وہ عیب چھوڑ چکا ہے پس دیو سماج کوئی مذہب نہیں کہ جس کا کام کمزوروں کی اصلاح ہوتا ہے بلکہ ایک کلب ہے کہ جس کا کام ایک خاص قسم کے لوگوں کو جمع کرنا ہوتا ہے۔نبی کی مثال تو ڈاکٹر کی ہوتی ہے وہ بیماروں کی اصلاح کرنے کے لئے آتا ہے۔اس کے ہسپتال میں مریضوں کا ہونا ضروری ہے جو آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ سے شفاء پاتے ہیں اور وہ سوائے اس صورت کے کہ بیمار اس سے علاج کرانے سے انکار کرے کسی کو دھتکارتا نہیں۔پھر یہ بھی غلط ہے کہ دیوسا جیوں میں عیب نہیں ہوتے۔پیچھے جب ان میں جھگڑے پیدا ہوئے تو ایک دوسرے کے متعلق حتی کہ بانی دیو سماج کے متعلق بھی ایسی ایسی گندی باتیں لکھی گئیں کہ شریف آدمی ان کو پڑھ بھی نہیں سکتا۔یہی حال یورپ کے دہریوں کا ہے۔چنانچہ امریکہ کی ایک دہر یہ اخبار کی ایڈیٹرلکھتی ہے کہ میں اس وقت تک اٹھارہ آدمیوں سے بلا نکاح تعلق پیدا کر چکی ہوں اور مجھے تو اس میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا حالانکہ یہ وہ فعل ہے کہ جسے دہر یہ بھی بُرا سمجھتے ہیں۔کیا خدا کے ماننے سے اعلیٰ اخلاق کا معیار گر جاتا ہے؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خدا کے ماننے سے اخلاق کا معیار گر جاتا ہے کیونکہ خدا کو ماننے والا نیکی اس لئے کرتا ہے کہ خدا سے کچھ اُمید رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر میں نے نیکی کی تو خدا مجھے انعام دے گا۔لیکن خدا کو نہ مانے والا نیکی کو نیکی سمجھ کر کرتا ہے نہ کہ کسی لالچ کی وجہ سے۔اسی طرح خدا کو ماننے والا خدا کے ڈر کی وجہ سے بُرائی کو چھوڑتا ہے