ہستی باری تعالیٰ — Page 102
اگر کہا جائے کہ بادشاہ کی مثال درست نہیں کیونکہ بادشاہ آدمی ہی ہوتا ہے اور وہ انسان کی ہر ایک خواہش کو پورا نہیں کر سکتا لیکن خدا تعالیٰ تو پورا کر سکتا ہے پھر اس کے متعلق کیوں نہ یہ کہیں کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں اسی طرح وہ اپنی ہستی کا ثبوت دے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غلط ہے کہ بادشاہ اس لئے لوگوں کے مطالبات کے مطابق اپنا امتحان نہیں دیتا کہ اس کا وقت خرچ ہوتا ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنے عہدہ کے خلاف سمجھتا ہے۔پس خدا تعالیٰ جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے کس طرح ان مطالبات کو قبول کر سکتا ہے۔دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ اگر انسان کی خواہش کو پورا کر کے ہی خدا کی ہستی کا ثبوت دیا جا سکتا ہے تو پھر در حقیقت خدا تعالیٰ کا وجود ثابت ہی نہیں کیا جا سکتا۔فرض کرو دو شخص سندر سنگھ اور آتما سنگھ ہوں اور ان میں مقدمہ ہو۔ان میں سے ہر ایک کہے کہ میرے نزد یک خدا کی ہستی کا ثبوت یہ ہوسکتا ہے کہ اس مقدمہ میں میں جیت جاؤں اور میں صرف اسی صورت میں اسے مان سکتا ہوں تو خدا تعالیٰ کس کے مطالبہ کو پورا کرے اگر ایک کے مطالبہ کو پورا کرے تو دوسرا نہ مانے گا یا مثلاً گزشتہ جنگ میں ہی جرمن کہتے کہ اگر خدا نے ہمیں فتح دی تو ہم اسے مان لیں گے۔ادھر انگریز کہتے کہ اگر خدا نے ہمیں فتح دی تو ہم اسے مان لیں گے۔اب فتح تو ایک فریق کو ہی ہوسکتی تھی۔اس لئے دوسرا فریق انکار پر قائم رہتا۔پس اس طرح اگر خدا کا ثبوت طلب کرنا درست ہو تو کم سے کم آدھی دنیا کے لئے تو ہدایت کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔چور کہتے اگر ہمیں چوری میں کامیابی نہ ہوئی تو ہم سمجھیں گے کہ خدا کوئی نہیں۔ادھر مال والے کہتے اگر ہماری چوری ہوئی تو ہم خدا کے وجود کے ہرگز قائل نہ ہوں گے۔اگر کوئی خدا ہے تو اسے چاہئے کہ ہمارے اموال کی حفاظت کرے۔یہی حال دوسری باتوں میں ہوتا اور اس طرح قانون قدرت بالکل تباہ ہو جاتا۔