ہستی باری تعالیٰ — Page 91
۹۱ کہ مشک کی خوشبو آتی ہے۔یہ ایک قسم کی نئی پیدائش ہی تھی جو خدا کی صفت خالقیت کے ماتحت ہوئی۔شاید بعض لوگ کہیں کہ اس قسم کی باتیں خدا کے ماننے والے ہی کہتے ہیں ان کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ماننے والوں کی باتیں بھی مانی ہی پڑتی ہیں۔اگر راستباز سمجھدار آدمی جن کو جھوٹ بول کر کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہوا ایسے امور کی شہادت دیں تو کیا وجہ ہے کہ ان کی شہادت کو قبول نہ کیا جائے اور اس قسم کی شہادتیں مؤمن ہی دے سکتے ہیں کیونکہ ایسے واضح نشانات مؤمنوں کو ہی دکھائے جاتے ہیں کیونکہ اگر نہ ماننے والوں کو بھی ایسے نشانات دکھائے جائیں تو پھر ان کا ایمان لانا کوئی خوبی نہیں رہ سکتا اور ان کا ایمان بے فائدہ ہو جاتا ہے۔سورج کو دیکھ کر اسے ماننے پر کسی انعام کا انسان امید وار نہیں ہوسکتا۔اسی طرح ایسے شواہد غیر مؤمن دیکھیں تو ان کے ایمان بے نفع ہو جائیں پس یہ نظارے ایمان کے بعد ہی دکھائے جاتے ہیں۔صفت شافی کی شہادت چھٹی مثال کے طور پر میں خدا تعالیٰ کی صفت شفاء کو پیش کرتا ہوں۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ بعض مریض ایسے طریق پر اچھے ہوتے ہیں جو طبعی طریقوں کے علاوہ ہیں یا ایسے مریض اچھے ہوتے ہیں جو عام طور پر اچھے نہیں ہو سکتے تو ماننا پڑیگا کہ ایک ایسی ہستی موجود ہے جس کے اختیار میں شفاء ہے اور یہ بھی کہ وہ اپنے اس اختیار کو استعمال بھی کرتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ایسے نظارے نظر آتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی طور پر شفاء بعض مریضوں کوملتی ہے بغیر اس کے کہ طبعی ذرائع استعمال ہوں یا ان