ہستی باری تعالیٰ — Page 27
۲۷ غرض بعض چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا علم حواس خمسہ سے بھی نہیں ہو سکتا۔ان چیزوں کی بھی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو قیاس سے معلوم ہوتی ہیں دوسری وہ جو اندرونی حسوں سے معلوم ہوتی ہیں۔مثلاً غیر کا غصہ تو قیاس سے معلوم ہوسکتا ہے۔لیکن اپنے آپ کو جب غصہ یا پیار آتا ہے تو اس کا پتہ قیاس سے نہیں لگایا جاتا اور نہ وہ سونگھنے ، دیکھنے، سننے اور چھونے سے معلوم ہوتا ہے بلکہ انسان کی اندرونی حسیں اسے محسوس کرتی ہیں۔پھر بعض ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے اثرات سے ان کو معلوم کرتے ہیں جیسے مقناطیس ہے اسے جب لوہے کے پاس رکھا جائے تو اسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اس سے ہم سمجھ لیتے ہیں کہ اس میں جذب کی طاقت ہے اور جب اس امر کا ہم بار بار تجربہ کر لیتے ہیں تو ہمیں اور بھی یقین ہو جاتا ہے اور اگر اس کے اثر کو ہم منتقل کر سکیں تو اس سے ہمارا یقین اور بھی بڑھ جاتا ہے۔کیونکہ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقتا کوئی وجود رکھتی تھی جس کی وجہ سے منتقل بھی ہوگئی۔اس طاقت مقناطیسی کو ہم دیکھ کر یا سونگھ کر یا چکھ کر یا چھو کر یا سن کر نہیں مانتے۔بلکہ اس کے اثر کی وجہ سے مانتے ہیں۔اس قسم کی اشیاء بھی لاکھوں کروڑوں ہیں اور کوئی عقلمند ان کا انکار نہیں کرتا۔پس جبکہ دنیوی اور مادی اشیاء میں حواس خمسہ کے سوا اور ذرائع سے بھی انسان چیزوں کے وجود کا پتہ لگایا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ جو مادی نہیں اس کے متعلق یہ شرط کیونکر لگائی جا سکتی ہے کہ اسے دکھا دو یا حواس خمسہ کے ذریعہ سے اس کا ثبوت دو۔ثبوت بیشک ہر دعوئی کے لئے ضروری ہے مگر وہ ثبوت دعویٰ کے مطابق ہوتا ہے نہ کہ بے تعلق اور بے جوڑ۔