ہستی باری تعالیٰ — Page 177
ہیں۔دیکھو جب کبھی کسی کھیت کی مینڈھ کے متعلق جھگڑا پیدا ہو جاتا ہے ایک کہتا ہے ا میری زمین کی اس جگہ پر حد ہے۔اور دوسرا کہتا ہے یہاں نہیں وہاں ہے تو اس کے فیصلہ کے لئے حدود برآری کرایا کرتے ہیں۔یہاں بھی مادہ کے متعلق جھگڑا پیدا ہو گیا کہ یہ آپ ہی آپ ہمیشہ سے ہے یا خدا نے اسے پیدا کیا ہے اس کے متعلق بھی حدود برآری کرانے کی ضرورت ہے اور اس طریق کے اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو حدود برآری کے وقت استعمال کیا جاتا ہے۔زمین کی حدود برآری کے لئے یہی کرتے ہیں کہ ایک مستقل جگہ منتخب کرتے ہیں جو بدلنے والی نہ ہو مثلاً پرانا کنواں یا پرانا درخت۔کاغذات میں اس کی جو جائے وقوع درج ہو گی اسے اصل قرار دے کر حدود برآری کریں گے اس کنویں یا درخت کے آگے جس قدر زمین سرکاری کاغذات میں لکھی ہو اس کے مطابق ناپ لیں گے پھر جس قدر زمین کسی کے قبضہ میں ثابت ہوا سے دے دیں گے۔اسی طرح صفات باری کے متعلق ہم غور کر سکتے ہیں یعنی ایسے امور کو لیکر جو مسلمہ ہیں ہم غور کریں کہ وہ مختلف فیہ مسئلہ کی کس شق کی تائید کرتے ہیں۔جس خیال اور رائے کی مسلمہ اُمور تائید کریں وہی تسلیم کرنی ہوگی کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ جس رائے کی دوسرے امور تائید کریں وہ غلط ہو اور جس کی دوسرے امور تردید کریں وہ صحیح ہو۔یہ اسی طرح ناممکن ہے کہ جس طرح یہ ناممکن ہے کہ مختلف درختوں سے پیمائش کے بعد جو جگہ کھیت کی ثابت ہو وہ غلط ہو اور محض خیالی اور وہی مقام درست ہو۔اس مسئلہ میں جن مقامات کو ہم حدود برآری کے لئے چن سکتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی دوسری صفات ہیں اگر خدا تعالیٰ کی وہ صفات جن کے متعلق آریہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس