ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 162

کہتے ہیں جب خدا ایک ہے تو اگر کوئی دوسرا وجود مانا جائے تو دو ہو گئے اور خدا کی یکتائی باقی نہ رہی۔مخلوق کی مثال وہ دریا سے دیتے ہیں جس پر حباب تیر رہے ہوں جس طرح وہ حباب الگ وجود نظر آتے ہیں مگر در حقیقت الگ وجود نہیں ہوتے اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ گو مختلف شکلیں نظر آتی ہیں مگر در حقیقت خدا کے سوا کچھ نہیں ہے جس طرح حباب پانی کی ہی ایک شکل ہے اسی طرح دنیا میں جو کچھ ہے یہ بھی خدا ہی کی ایک شکل ہے مگر اس قسم کی مثالیں بالکل باطل ہیں۔مثلاً یہی حباب والی مثال لے لو۔حباب کیا ہے؟ پانی میں ہوا داخل ہو کر حباب بن گیا اسی طرح مخلوق کی مثال حباب کی سی ہے تو یہاں بھی خدا کے سوا کوئی اور وجود ماننا پڑے گا جو ہوا کی طرح خدا میں داخل ہو کر اس کی مختلف شکلیں بنا دیتا ہے۔نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ تِلْكَ الْخُرَافَاتِ بہر حال ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ در اصل چیز ایک ہی ہے آگے اس کی شکلیں مختلف ہیں اس کے لئے انہوں نے مذہبی دلیلیں بھی بنا رکھی ہیں مثلاً وہ یہ کہتے ہیں کہ لا إله إلَّا اللہ کے معنے ہیں خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دُنیا میں ہزاروں لاکھوں وجودوں کی عبادت کی جاتی ہے تو کیا کلمہ شریفہ میں یہ دعویٰ جھوٹا کیا گیا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور معبود نہیں، پس کلمہ شریفہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے سوا جن چیزوں کی پرستش کی جاتی ہے وہ بھی خدا کا ہی جزو ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خواہ جس کی بھی پرستش کرو آخر پرستش تو اللہ کی ہی ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی اور وجود ہی نہیں جب اس کے سوا کوئی اور وجود ہی نہیں تو اس کے سوا کوئی معبود بھی نہیں۔قرآن کریم کی آیت اَجَعَلَ الْأَلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا۔(ص:۶) سے بھی یہ لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ خدا کے سوا اور کچھ نہیں کیونکہ کہتے ہیں کہ کفار نے کلمہ شریفہ کے معنے