ہستی باری تعالیٰ — Page 86
AY علاوہ حفاظت کرتی ہے۔اگر کوئی ایسی ہستی ثابت ہو جائے تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ موجود ہے۔میں اس صفت کے ثبوت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو پیش کرتا ہوں۔مکہ والوں نے آپ کو مارنا چاہا خدا تعالیٰ نے آپ کو وقت پر اطلاع دی اور فرمایا کہ یہاں سے چلے جاؤ آپ وہاں سے روانہ ہو گئے لیکن بعض مصالح کی وجہ سے راستہ میں ٹھہر نا پڑا۔قریب کے پہاڑ کی ایک غار میں جس کا منہ چند فٹ مربع ہے اور جسے غار ثور کہتے ہیں آپ ٹھہر گئے مکہ والے تلاش کرتے کرتے اس جگہ تک جا پہنچے۔عربوں میں کھوج لگانے کا علم بڑا یقینی تھا اور یہ ان کے لئے ضروری تھا کیونکہ وہ جنگی لوگ تھے اگر اس کے ذریعہ اپنے دشمنوں کا پتہ نہ لگا یا کرتے تو تباہ ہو جاتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں بھی کھو جی لگائے گئے اور وہی پتہ لگاتے ہوئے اس غار تک مکہ والوں کو لے آئے وہاں آکر انہوں نے کہا کہ یا تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) یہاں ہے یا پھر آسمان پر چڑھ گیا ہے اس سے آگے نہیں گیا۔جب یہ باتیں ہو رہی تھیں تو نیچے آپ بھی سن رہے تھے۔حضرت ابوبکر کو ڈر پیدا ہوا کہ میں اکیلا کیا کر سکوں گا ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ خدا کے رسول کو پکڑ لیں لیکن جس شخص سے متعلق آپ ڈر رہے تھے اور جو شخص حقیقتا مکہ والوں کو مطلوب تھا وہ اس خوف کے وقت میں فرماتا ہے لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا۔غم نہ کھا خدا ہمارے ساتھ ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ کھوجی جن کی بات پر ان لوگوں کو بہت ہی یقین ہوتا تھا وہ کہتے ہیں کہ آپ اس جگہ آئے ہیں مگر کوئی آگے بڑھ کر غار کے اندر نہیں جھانکتا اور یہ کہہ کر کہ یہاں ان کا ہونا ناممکن ہے سب لوگ واپس چلے جاتے ہیں۔میں جب مکہ گیا تھا تو اس غار کو دیکھنے کے لئے بھی گیا تھا لیکن او پر چڑھتے ہوئے بخاری کتاب التفسیر باب ثانی اثنین اذهما في الغار + دلائل النبوة اللبيب بقى جلد ۲ صفحه ۴۷۸ مطبوعہ بیروت