ہستی باری تعالیٰ — Page 81
Al ہوتی رہی ہے تو خدا تعالیٰ کسی انسان کو بھیج دیتا رہا ہے جو ان کو حقیقت کی طرف لاتا رہا ہے۔چنانچہ مسلمان اس زمانہ میں بھی ایسی باتوں پر لڑنے جھگڑنے لگے اور نہ سمجھا کہ اس قسم کا اختلاف رحمت نہیں بلکہ عذاب اور دُکھ کا موجب ہے تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو بھیج دیا اور آپ نے ایک فقرہ میں ان سب جھگڑوں کو حل کر دیا۔چنانچہ دیکھ لو ہماری جماعت میں ان امور پر کوئی اختلاف نہیں غرض بعض باتیں ایسی ہیں جن میں سے ایک صورت ادنی درجہ والوں کے لئے ہے ایک اعلیٰ درجہ والوں کے لئے۔اور بعض ایسی ہیں جن کی دونوں صورتیں درست ہیں۔مثلاً آمین اونچی کہنی بھی جائز ہے اور نیچی بھی۔ہاتھ اوپر باندھے جائیں یا نیچے دونوں طرح جائز ہے۔اس طرح سب باتوں کا فیصلہ ہو گیا اور کوئی جھگڑا نہ رہا۔مشاہدہ کی دلیل پر اعتراض اور اس کا جواب میں نے جو یہ بتایا ہے کہ جس انسان کو خدا کا مشاہدہ ہو جائے خدا کا کلام سنے وہ کس طرح انکار کر سکتا ہے کہ خدا نہیں ہے۔اس پر ایک اعتراض کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ مشاہدہ کی دلیل ہر جگہ درست طور پر نہیں چل سکتی۔مثلاً شعبدہ باز بظاہر روپیہ بنا کر دکھا دیتا ہے دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ اس نے روپیہ بنا دیا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا کہ اس نے کسی منتر سے روپیہ بنایا ہو اسی طرح کیوں نہ سمجھا جائے کہ اس مشاہدہ میں بھی کوئی دھوکا ہی ہوتا ہو انسان خیال کرتا ہو کہ اسے مشاہدہ یا مکالمہ حاصل ہوا ہے اور فی الواقع کچھ بھی نہ ہو۔