ہستی باری تعالیٰ — Page 80
۸۰ والوں کے لئے بھی۔پس الفاظ ایسے رکھے گئے ہیں کہ ہر علم کا آدمی اس سے اپنے درجہ کے مطابق مستفیض ہو سکے اور اس کا کوئی حصہ بھی کسی جماعت کے لئے بے فائدہ یا نا قابل فہم نہ ہو۔یہی چھوٹی سی کتاب ہے جسے ایک معمولی سے معمولی مؤمن بھی پڑھتا تھا اور رسول کریم بھی۔اگر یہ خوبی نہ ہوتی تو یا اس معمولی مؤمن کی سمجھ کے قابل بات اس میں نہ ہوتی یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو زیادہ کرنے والی بات کوئی نہ ہوتی۔گویا کلام ایک ہی ہے الفاظ ایک ہی ہیں لیکن ان کو ایسے رنگ میں جوڑا گیا ہے کہ جتنی جتنی کسی کی سمجھ اور عقل ہو اس کے مطابق وہ ان سے معنی نکال لے اور اس کلام کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں کم درجہ کی عقل والوں کی سمجھ میں آنے والی باتیں نہیں ہیں اور نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں ادنی درجہ کے لوگوں کے متعلق تعلیم ہے اعلیٰ رُوحانی درجہ رکھنے والے ان سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے بلکہ اس کا ہر ہر لفظ دونوں جماعتوں کے لئے ہے۔ہر اختلاف رحمت نہیں اس پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ مانا کہ اختلاف رحمت ہوتا ہے مگر اسلام میں ایسے جھگڑے اور اختلاف بھی تو ہیں جو رحمت کا موجب نہیں بلکہ دُکھ کا موجب ہیں۔مثلاً اونچی اور نیچی آمین کہنے پر ایک دوسرے کو پتھر بھی مارتے ہیں ، مقدمے بھی چلتے ہیں۔پھر یہ اختلاف رحمت کس طرح ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک جب انسان گندے ہو جائیں تو ان کی ایسی ہی حالت ہو جاتی ہے کہ فروعی باتوں پر ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں مگر جب کبھی مسلمانوں کی ایسی حالت