ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 72

۷۲ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور مہدی کے متعلق مسلمانوں نے جو غلط خیال بنائے ہوئے تھے ان کی وجہ سے گورنمنٹ آپ پر بہت بدظن تھی۔غرض ہر طرف سے آپ کی مخالفت ہوتی تھی۔مولویوں نے اپنی طرف سے زور لگانے میں کسر نہ رکھی اور عوام نے اپنی طرف سے کمی نہ کی۔مگر خدا تعالیٰ نے یہ کہہ رکھا تھا کہ لاغلِبَنَ آنَا وَرُسُلی میں اور میرے رسول ضرور غالب ہو کر رہیں گے پھر اس کلام کے ماتحت دیکھو لوگوں کی مخالفت کا کیا نتیجہ نکلا ؟ یہی ناں کہ بہت سے ایسے لوگ جو شروع میں آپ کو گالیاں دیتے تھے آج لاغْلِبَنَّ انَا وَرُسُلِی کی رسی میں بندھے ہوئے یہاں بیٹھے ہیں لوگوں نے حضرت مسیح موعود کو کیا کیا دُ کھ نہ دیئے۔کیا کیا تکلیفیں نہ پہونچائیں آپ کے راستہ میں کیا کیا رکاوٹیں نہ ڈالیں ،مگر کیا کر لیا ؟ وہ جو غالب سمجھے جاتے تھے آخر مغلوب ہو گئے اور وہ جو بڑے سمجھے جاتے تھے چھوٹے ہو گئے اور اس طرح لاغلب انا ورسیلی کی پیشگوئی پوری ہوئی۔تلوب پر قبضہ زیادہ مشکل اس موقعہ پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تلوار اور طاقت کے ذریعہ جسموں پر غلبہ حاصل کرنا اور بات ہے اور قلوب پر قبضہ کرنا اور بات۔دلوں پر قبضہ کرنے کا کام نہایت مشکل کام ہے۔کہتے ہیں ابن سینا کوئی مسئلہ بیان کر رہا تھا ایک شاگرد کو جو اس کی بات بہت پسند آئی تو جھوم کر کہنے لگا آپ تو محمد جیسے ہیں اگر چہ ابن سینا فلسفی تھا اور دین سے اسے تعلق نہ تھا مگر آخر مسلمان تھا اسے یہ بات بہت بڑی لگی۔جہاں بیٹھے تھے اس کے قریب ہی ایک حوض تھا اور سردی کی وجہ سے یخ بن رہا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد ابن سینا نے اسی شاگرد سے کہا کہ اس حوض میں گو د جاؤ۔شاگرد نے کہا کیا آپ پاگل ہو گئے