ہستی باری تعالیٰ — Page 67
راستبازی کا نمونہ نہ تھی۔بلکہ اس کے خطرناک دشمنوں تک نے یہ شہادت دی کہ وہ اپنی راستبازی میں سارے زمانہ میں بے مثل تھا اور یہانتک اس کی صداقت اور راستبازی کے لوگ معترف تھے کہ مخالفین نے ان جھگڑوں میں جو اس کے خاندان کے ساتھ تھے تسلیم کر لیا کہ جو وہ کہہ دے ہم اسے مان لیں گے۔یہ شخص حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام مسیح موعود و مہدی معہود تھے۔پس جبکہ ہر زمانہ میں اس قسم کے شاہد موجود ہیں تو اس شہادت میں کچھ بھی شک نہیں کیا جاسکتا۔آٹھویں دلیل اب میں آٹھویں دلیل بیان کرتا ہوں۔یہ ان دلیلوں سے جنہیں میں اب تک بیان کر چکا ہوں مختلف ہے اور اس دلیل سے ایک نیا سلسلہ دلائل کا شروع ہوتا ہے اور اس سلسلہ میں اور پہلے سلسلہ دلائل میں یہ فرق ہے کہ پہلی دلیلوں میں تو ہستی باری کا ثبوت صرف عقلا ملتا تھا اور عقل اپنے فیصلہ میں بعض دفعہ غلطی بھی کر جاتی ہے اس دلیل سے سلسلہ دلائل مشاہدات سے تعلق رکھتا ہے جن میں غلطی ناممکن ہو جاتی ہے گو یہ ایک لمبا سلسلہ دلائل کا ہے مگر میں گنجائش کی قلت کی وجہ سے مختصر پیرایہ میں ایک ہی دلیل کی صورت میں اس سارے سلسلہ پر روشنی ڈالتا ہوں۔یا د رکھنا چاہئے کہ خدا نے اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لئے ایک دو نہیں چار نہیں دس ہیں نہیں بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں دلیلیں رکھی ہیں۔خدا تعالیٰ کی ہر صفت اس کی ہستی کا ثبوت ہے۔ہم کہتے ہیں کہ خدا رحیم ، کریم ، قدیر، سمیع، بصیر ہے۔پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ انسان سے بالا ایک ہستی ہے جو رحیم ہے اور رحم کرتی ہے۔کریم ہے کرم کا سلوک کرتی ہے۔ہماری ضروریات کو پورا کرتی ہے۔دکھوں اور