ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 66

۶۶ تھے اور پھر دُنیا کے ذہنی ارتقاء میں جو اُن لوگوں نے یا ان کے اتباع نے حصہ لیا ہے اور کسی نے اس قدر حصہ نہیں لیا۔پس ان لوگوں کی ایسی کھلی کھلی اور زبردست شہادت کی موجودگی میں کس طرح انکار کیا جا سکتا ہے کہ ایک زبردست ہستی ہے جو اس دنیا کی خالق اور اس کی مالک ہے۔اگر ایسی زبردست شہادت کو رد کیا جائے تو اصول شہادت کا بالکل ستیا ناس ہو جاتا ہے اور کوئی علم بھی دُنیا میں ثابت نہیں ہوسکتا اور عقل سلیم ہرگز تسلیم نہیں کرتی کہ معمولی معمولی شہادتوں کو تو قبول کیا جائے مگر اس قدر زبر دست شہادتوں کو رد کر دیا جائے۔دلیل شہادت پر اعتراض اور اس کا جواب کہا جا سکتا ہے کہ کیا پتہ ہے کہ ان لوگوں نے فی الواقع ایسی شہادت دی ہے کہ کوئی خدا ہے جس نے انہیں مبعوث کیا ہے اور ان کے بعد لوگوں نے اپنے پاس سے بات بنا کر ان کی طرف منسوب نہیں کر دی۔اس کا جواب اوّل تو یہ ہے کہ جس طرح ان کی شہادت تواتر سے پہنچتی ہے اور دنیا کی کوئی شہادت تواتر سے نہیں پہنچتی کروڑوں آدمی نسلاً بعد نسل اور ہزاروں کتب ان کی شہادت کو پیش کرتی چلی آئی ہیں۔پس ان کی شہادت کے متعلق کسی قسم کا شبہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔پھر یہ کہ شہادت کسی خاص زمانہ سے مختص نہیں ہے ہر زمانہ میں ایسے شاہد گزرے ہیں اور اس وقت بھی ایک شخص گزرا ہے جس نے اس شہادت کو تازہ کیا ہے اور اپنی راستبازانہ زندگی کے متعلق اس نے آریوں، ہندوؤں، مسلمانوں مسیحیوں سب قوموں کو چیلنج دیا لیکن کوئی قوم بھی باوجود اس کے کہ سب قوموں کے لوگ اس کے ارد گرد بستے تھے یہ نہ کہہ سکی کہ اس کی زندگی فی الواقع تقویٰ اور