ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 50

نہیں کرتا کہ یہ کس طرح بنی بلکہ اکثر اوقات وہ یہ دریافت کرتا ہے کہ یہ کس نے بنائی ہے اور کہاں بنی ہے۔اگر انسان کو ان دونوں سوالوں کا صحیح جواب مل جائے تو اول تو وہ بنانے والے کی قدر کر سکے گا۔اور دوسرے اگر چھڑی خریدنا چاہے گا تو چھڑی خرید سکے گا۔اسی طرح اگر یہ نہ معلوم ہو سکے کہ دنیا کیونکر بنی ہے اور یہی معلوم ہو جائے کہ کس نے بنائی تو بھی یہ علم بہت مفید ہوگا۔کیونکہ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اس دنیا کو خدا نے پیدا کیا ہے تو اس سے کئی راستے فکر کے نئے کھل جائیں گے مثلاً : اول۔یہ کہ اگر ہم کو معلوم ہو جائےکہ یہ دنیا خدا نے پیدا کی ہے تو ہم دیکھیں گے کہ آیا ہم اس سے کوئی فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا نہیں؟ نہیں۔دوم۔یہ کہ ہمیں جو تکالیف پہنچتی ہیں کیا اس کے ذریعہ ہم ان سے بچ سکتے ہیں یا سوم۔یہ کہ اگر اس نے ہم کو پیدا کیا ہے تو کس لئے ؟ اور کس مقصد سے؟ تاکہ ہم اپنی پیدائش کی غرض اور مقصد کو پوار کرسکیں۔چہارم۔ممکن ہے کہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے سے ہمیں یہ بھی پتہ لگ جائے کہ دنیا کو اس نے کس طرح پیدا کیا ہے۔کیونکہ کسی چیز کے بنانے والے سے تعلق رکھنے پر جو چیز اس نے بنائی ہو، اس کی حقیقت کا بھی پتہ لگ جاتا ہے۔یہ چار ایسے عظیم الشان سوال ہیں کہ ان کے حل ہونے پر ہماری حالت کچھ سے کچھ بن سکتی ہے۔پس یہ کہنا کہ خدا کے ماننے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے بالکل غلط اور باطل ہے۔