ہستی باری تعالیٰ — Page 269
۲۶۹ نفرت کرنے لگ جاتا ہے۔اسے یادرکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ جس کا قصور ہوتا ہے اسی کو سزا دیتا ہے۔پس صفت مالکیت میں خدا تعالیٰ کے ساتھ مشابہت پیدا کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس کی نسبت کوئی فیصلہ کرنا ہو اپنے فیصلہ کو اسی کی نسبت محد و در کھونہ کہ اس کی وجہ سے اس کے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی برا سمجھو اور نہ یہ کرو کہ دوسروں کے جُرم کی وجہ سے اسے پکڑو۔حرم کے مطابق سزا دو چوتھی خصوصیت خدا تعالیٰ کی قضاء میں یہ ہے کہ وہ جس قدر جرم کسی کا ہو اتنی ہی سزا دیتا ہے۔سالک کو چاہئے کہ وہ بھی ایسا ہی کرے یہ نہ ہو کہ مثلاً اسے کسی نے گالی دی اور وہ اس کے بدلہ میں یہ خواہش کرے کہ اگر بس چلے تو اسے مار دوں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرح اگر سزا دینی ہی پڑے یا رائے قائم کرنی ہو تو جرم کے مطابق ہی سزا دے یا رائے قائم کرے۔فیصلہ کرتے وقت میزان رکھو پانچویں بات خدا تعالیٰ یہ کرتا ہے کہ جب فیصلہ کرتا ہے تو میزان رکھتا ہے یعنی یہ دیکھتا ہے کہ جرم تو کیا مگر کس حالت میں؟ ایک شخص نے چوری سے کسی کی روٹی کھائی یہ جرم ہے مگر خدا تعالیٰ اس کے جرم کا فیصلہ کرتے وقت یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس نے کس حالت میں وہ روٹی کھائی ہے آیا دوسرے کے مال پر تصرف کرنے کے لئے یا یہ کہ وہ بھوک سے مجبور تھا اور اور کوئی ذریعہ پیٹ بھرنے کا اسے معلوم نہیں تھا۔پس جو سالک ہو اُسے بھی چاہئے که اسی طرح کرے یہی نہ دیکھے کہ کسی نے کیا جرم کیا ہے بلکہ اس کے حالات اور مجبوریوں