ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 268

۲۶۸ فیصلہ نہیں کرتا۔اب جو شخص خدا تعالیٰ کی اس صفت کو جلوہ گر دیکھنا چاہے اسے چاہئے کہ غور کرے کہ کیا وہ بھی اسی طرح کرتا ہے یا وہ جو نہی سنتا ہے کہ فلاں شخص نے چوری کی ہے تو کہہ دیتا ہے کہ تب تو وہ بہت بُرا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ اس طرح نہیں کرتا اس لئے خدا کی قضاء اور بندہ کی قضاء میں بہت بڑا فرق ہے۔وہ سارے حالات معلوم کر کے فیصلہ کرتا ہے اور انسان یو نہی فیصلہ کرنے بیٹھ جاتا ہے۔جس طرح روز مرہ ہر انسان فیصلہ کرنے لگ جاتا ہے سب مجسٹریٹ اسی طرح کرنے لگ جائیں تو دنیا میں اندھیر بچ جائے۔کوئی کسی کے متعلق جا کر کہے کہ فلاں نے چوری کی ہے اور مجسٹریٹ سنتے ہی فورا اس شخص کو قید کر ڈالے تو کس قدر ظلم برپا ہو جائے۔پس اپنے نفس میں سوچو کہ وہ قضاء جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہے اس کو تم کس طرح استعمال کرتے ہو۔اگر خدا تعالیٰ جس طرح اپنے حج ہونے کی صفت کو استعمال کرتا ہے اسی طرح نہیں کرتے تو اس کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتے اور اگر اس کی طرف قدم بڑھانا چاہتے ہو تو چاہئے کہ اپنے دماغ کے گوشوں میں بھی کسی کی نسبت بغیر تحقیق و تدقیق کوئی خیال نہ آنے دو جب تک پہلے کامل تحقیق نہ کرلو۔جس کا قصور ہو اسی کو سزا دو دوسری اور تیسری خصوصیت خدا تعالیٰ کے فیصلہ میں یہ پائی جاتی ہے کہ جس کام کا جرم ہوتا ہے اور جس کے متعلق فیصلہ کرنا ہوتا ہے اسے دوسروں کے جرموں کی وجہ سے نہیں پکڑتا اور نہ دوسروں کو اس کی بجائے پکڑتا ہے۔پس اس شخص کو جو خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت کو اپنے اندر جلوہ گر کرنا چاہتا ہے سوچنا چاہئے کہ کیا وہ بھی اس طرح کرتا ہے کیا وہ اس طرح تو نہیں کرتا کہ جب اسے کسی شخص سے نفرت پیدا ہوتی ہے تو اس کے بھائی سے بھی