ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 248

۲۴۸ جائے تو پھر دُنیا کیا کرے گی۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں خدا تعالیٰ کے متعلق آتا ہے کہ وہ کفایت کرنے والا ہے ( قرآن میں تو یہ صفت فعل کے طور پر استعمال ہوئی ہے لیکن رسول کریم نے اسم کے طور پر اسے استعمال کیا ہے یعنی خدا کا نام کافی بتایا ہے ) اب دیکھ لو اگر ایک چیز ختم ہونے لگتی ہے تو اس کی قائم مقام اور نکل آتی ہے کوئلہ ختم ہونے لگا تو تیل نکل آیا اب تیل کے ختم ہونے کا ڈر پیدا ہو اتو ایسی تحقیقا تیں ہورہی ہیں کہ سورج کی شعاعوں سے یہ کام لیا جائے تو دُنیا جب گھبرا اُٹھتی ہے کہ اب مرے اس وقت مؤمن ہنستے ہیں کہ یہ لوگ کیسے نادان ہیں خدا کوئی اور سامان ضرور کر یگا چنانچہ ایسا ہی ہوتا ہے۔خدا کو قادر ماننے کا اثر در حقیقت صفات الہیہ کو ماننے والا انسان ایک وسیع پلیٹ فارم پر کھڑا ہوتا ہے اور ا ساری دنیا اس کی نظروں میں حقیر ہوتی ہے۔مثلاً جو شخص خدا تعالیٰ کی صفت قدرت پر یقین رکھتا ہے وہ یہ بھی یقین رکھے گا کہ خدا نے ہر چیز کے اندازے اور قواعد مقرر کئے ہوئے ہیں یہ سمجھ کر وہ سارے بیہودہ ٹونے ٹوٹکوں سے بچ جائیگا کیونکہ اسے معلوم ہوگا کہ یہ باتیں کچھ اثر نہیں رکھتیں اور بیہودہ ہیں اس طرح وہ سارے شکوک اور شبہات سے پاک ہو جائے گا۔خدا کو رب العالمین ماننے کا اثر اسی طرح خدا کی رب العالمین صفت ہے اس کے ماتحت ایک مؤمن اسی دُنیا کو سب کچھ نہیں مجھ سکتا بلکہ یہ بھی یقین رکھتا ہے کہ یہ دنیا خدا کے ان گجت عالموں میں سے ایک عالم ہے اس کے سوا اور بھی عالم ہیں اور اس بناء پر مثلاً وہ یقین رکھے گا کہ علم بیت