ہستی باری تعالیٰ — Page 244
۲۴۴ مَا مِن دَاءٍ إِلَّا لَهُ دَوَاءُ إِلَّا الْمَوْتَ۔کہ کوئی بیماری نہیں جس کا علاج نہ ہو۔یہ آپ نے کیوں کہا؟ اس لئے کہ آپ کو معلوم تھا کہ خدا شافی ہے اس لئے سب بیماریوں کا علاج ہونا چاہئے۔اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۳ سو سال پہلے وہ نکتہ دریافت کر لیا جو یورپ نے آج بھی نہیں کیا۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت جبکہ طب کا علم نہایت محدود تھا فرماتے ہیں یہ نہ کہنا کہ فلاں بیماری کا کوئی علاج نہیں یہ بیوقوفی کی بات ہے، تم دریافت کرنے میں لگے رہو اس کا علاج ضرور نکل آئے گا۔اگر خدا شافی ہے تو اس نے اس مرض کا علاج بھی ضرور قانون قدرت میں رکھا ہو گا تم کوشش کرو اور اسے تلاش کر لو۔دیکھو شافی صفت کا علم رکھنے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نقطۂ نگاہ اپنے ہمعصروں سے بلکہ اپنے بعد آنے والے لوگوں کے نقطہ نگاہ سے بھی کسقدر بدل گیا۔دوسرے لوگ تو یہ خیال کرتے تھے اور آپ کے بعد بھی اب تک یہی خیال کرتے رہے کہ جو باتیں ہمیں معلوم ہو چکی ہیں ان سے بڑی اور کیا ہو سکتی ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کے علم کی بنیاد صفات الہیہ کے علم پر تھی باوجوداقی ہونے کے فرماتے ہیں کہ یہ کہ دینا کہ اس مرض کا علاج نہیں بالکل غلط ہے۔علاج ہر اک شے کا موجود ہے دریافت کرنا تمہارا کام ہے۔آپ کے اس ارشاد کے مقابلہ پر علم کا دعویٰ رکھنے والوں کی مایوسی کہو یا تعلی کہو کس قدر حقیر کس قدر ذلیل اور کس قدر زشت و بدصورت معلوم ہوتی ہے۔کجا علم کے دعوی کے باوجود یہ کہنا کہ گو دنیا کے آرام کے سب سامان میسر نہیں آتے مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سامان پیدا ہی نہیں کئے گئے اور کجا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ کہ یہ کہنا کہ علم طب ختم ہو گیا ہے جہالت مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحه ۲۷۸ پر حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں۔تدَاوَوُا عِبَادَ اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِل دَاءَ إِلَّا انْزَلَ مَعَهُ شِفَاءٌ إِلَّا الْمَوْتَ وَالْهَرَمَ -