ہستی باری تعالیٰ — Page 243
م سلام سائنس یا حساب یا ڈاکٹری یا انجینئر نگ میں جتنی ترقی ہوئی تھی ہو چکی ہے بلکہ وہ سمجھے گا کہ چونکہ یہ علوم غیر محدود ہستی کی طرف سے آئے ہیں اس لئے ان کی ترقی بھی کبھی ختم نہ ہوگی۔یہ سمجھ کر وہ کسی علم میں ترقی کرنے سے پیچھے نہ ہٹے گا۔مسلمانوں نے غلطی کی ہے کہ یونانیوں کے پیچھے چل کر کہہ دیا کہ فلاں علم بھی ختم ہو گیا اور فلاں بھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا قدم ترقی کی طرف سے ہٹ گیا اور آخر جہالت پیدا ہونے لگ گئی جو ایک جگہ ٹھہر جانے کا لازمی نتیجہ ہے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کرتے تو آج ہر علم کے سب سے بڑے عالم دنیا میں مسلمان ہی ہوتے۔پس خدا تعالیٰ کی صفات کے سمجھنے سے ایک عظیم الشان فائدہ یہ ہے کہ ایسا انسان کسی علم کو محدود نہیں قرار دے سکتا۔کوئی مسلمان علوم کو محدود نہیں مان سکتا اب میں اس امر کی مثالوں سے تشریح کرتا ہوں مثلاً بعض بیماریاں ایسی ہیں کہ ان کے علاج معلوم تھے اور بعض کے نہیں۔اور آج سے پہلے بعض بیماریوں کے متعلق کہا جاتا تھا کہ لاعلاج ہیں حالانکہ لاعلاج کا لفظ ایک بے ہودہ لفظ ہے کیونکہ اگر خدا قادر مطلق ہے تو کوئی بیماری لا علاج کس طرح ہوسکتی ہے ؟ ہاں اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ فلاں بیماری کا علاج ہمیں معلوم نہیں تو اور بات ہے ورنہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ فلاں بیماری کا کوئی علاج ہی نہیں تو وہ مشرک ہے وہ خدا کو قادر مطلق نہیں مانتا۔آج تک بیماریوں کے متعلق لوگ لکھتے چلے آئے ہیں کہ لا علاج ہیں۔لاعلاج ہیں مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں یہ لوگ امی کہتے ہیں انہوں نے فرمایا