ہستی باری تعالیٰ — Page 234
یہ ظاہر ہونے والا وجود بھی درحقیقت خدا تعالیٰ کی مستمثل صفات ہی ہوں گی اس لئے اس کا دیکھنا بھی خدا کا دیکھنا ہی ہے اور منافق اس رؤیت میں مؤمنوں کے شریک ہوں گے لیکن کا فر اس سے بھی محروم رہیں گے جس طرح منافقوں نے ظاہر میں اسلام کو دیکھا ہوتا ہے حقیقی طور پر نہیں دیکھا ہوتا اسی طرح جب خدا تعالیٰ اپنی اصلی صفات میں جلوہ گر نہیں ہوگا بلکہ اس کی صفات تنزل کا ایک نہایت ہی کثیف پر دہ اوڑھے ہوئے ہونگی جیسے کہ خواب میں بعض لوگ خدا تعالیٰ کو باپ کی شکل میں دیکھ لیتے ہیں اور جس کے متعلق کہ بندہ کو خیال بھی نہیں آسکے گا کہ یہ خدا کا جلوہ ہے۔اس وقت تو منافق دو قسم کی تجلی دیکھ لیں گے مگر جب پھر اس کے بعد خدا آئیگا اور اعلیٰ تجلی کر کے کہے گا کہ سجدہ کرو اور سب اس کے آگے جھکیں گے تب منافقوں کی آنکھیں چندھیا جائیں گی اور وہ سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے مگر جھک نہ سکیں گے۔تب ان کو کہا جائے گا کہ تم میرے لئے عبادت نہ کرتے تھے اس لئے آج حقیقی تجلی پر عبادت کی تو فیق چھینی گئی۔اس وقت ان کو جہنم میں گرا دیا جائے گا چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَيُدعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ وَقَدْ كَانُوا يدعونَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَلِمُونَ (القلم : ۴۳، ۴۴) اس سے معلوم ہوا کہ رؤیت الہی کے دو مدارج تو ایسے ہیں کہ ان میں منافق بھی خدا کو دیکھ سکیں گے لیکن تیسری تجلی کی جو حقیقی تجلی تھی وہ برداشت نہ کر سکیں گے۔