ہستی باری تعالیٰ — Page 233
۲۳۳ ہونا اور اس کی رؤیت کے مدارج کا کبھی ختم نہ ہونا ہمارے لئے حوصلہ شکن نہیں ہے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ہماری ترقی غیر محدود ہے اور ہمارے لئے آگے ہی آگے بڑھنے کا سامان موجود ہے۔اب میں ان رؤیتوں کے بعض وہ موٹے موٹے مدارج بیان کرتا ہوں جو حدیثوں سے معلوم ہوتے ہیں۔رؤیت الہی کا پہلا درجہ ایک تو وہ درجہ ہے جس میں منافق بھی شامل ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کو جب حشر میں لوگ کھڑے کئے جائیں گے تو ان کو آواز آئے گی کہ صلیب کے متبع اس کے پیچھے اور بتوں کے پجاری بتوں کے پیچھے اور دوسرے مشرک جن جن کو خدا کا شریک مقرر کرتے تھے ان کے پیچھے چل پڑیں اور یہ چیزیں ان کے لئے متمثل کر کے لائی جائیں گی ان کے پجاری ان کے پیچھے چلے جائیں گے۔ان کے جانے کے بعد مسلمان باقی رہ جائیں گے یعنی ساری اُمتوں کے مسلمان ان کے ساتھ منافق بھی ہوں گے تب خدا آئے گا اور ایسی شکل میں آئے گا کہ جسے بندے پہچانتے ہوں گے اور کہے گا کہ میں خدا ہوں میرے پیچھے آؤ وہ کہیں گے نَعُوْذُ بِاللهِ مِنْكَ نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْكَ اللَّهُ رَبُّنَا ہم تیرے پیچھے نہیں چلتے اور ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں پھر خدا تعالیٰ غائب ہو جائے گا اور کسی دوسری شکل میں جلوہ گری کرے گا اور کہے گا میرے پیچھے آؤ اس وقت وہ کہیں گے هذَا مَكَانَنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا کہ ہم تیرے متبع نہیں اور ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے جب تک خدا تعالیٰ کو نہ دیکھ لیں ترمذی ابواب صفة الجنة باب ما جاء في خلود أهل الجنة وَأَهْلِ النَّار