ہستی باری تعالیٰ — Page 223
۲۲۳ ٹھیک ہے کہ اس طرح خدا کو کہیں بھی نہیں دیکھ سکتا۔پھر رؤیت الہی سے یہ بھی مراد نہیں ہو سکتی کہ خدا تعالیٰ کی صورت نظر آئے کیونکہ جولوگ رؤیت کے قائل ہیں وہ خدا تعالیٰ کی کوئی صورت تسلیم نہیں کرتے ان کی مراد اگر رؤیت الہی سے کچھ ہے تو یہی کہ خدا تعالیٰ کی صفات تنزل اختیار کر کے تمثیلی صورت میں آتی اور انسان ان کا جلوہ دیکھتا ہے یا یہ کہ اپنے قلب میں انسان خدا تعالیٰ سے ایک ایسا روحانی اتصال پاتا ہے کہ اسے سوائے دیکھنے کے اور کسی چیز سے تشبیہ نہیں دے سکتا اور اس قسم کی رؤیت کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔اس طرح اور کئی چیزوں کو انسان دیکھ لیتے ہیں۔مثلاً علم اور حیا شکل اختیار کر کے آجاتی ہیں اور ہم دیکھ لیتے ہیں حالانکہ علم اور حیا معانی ہیں اجسام نہیں۔پس اگر خدا تعالیٰ کی بعض صفات اگر بطور تنزل بندے کے لئے متمثل ہوں یعنی تمثیلی زبان میں ان پر بندہ کو آگاہ کیا جائے تو یہ بات بندہ کے لئے اسی طرح مفید ہو گی جس طرح کسی وجود کا دیکھنا مفید ہو سکتا ہے اور قلب پر صفات الہیہ کی تحقیقی ہو تو یہ بھی ویسی ہی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مفید ہوگی۔موٹی مثال ہے کلام اللہ نازل ہوتا ہے ہم اسے پڑھ جاتے ہیں اس کے بعد لفظ تو غائب ہو جاتے ہیں مگر ایک بات انسان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے پس معانی کا شکل اختیار کرنا کوئی بعید بات نہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفات کو تصویری زبان میں دکھا دیا جانا بھی ناممکن ہے۔حضرت موسی اور رویت الہی وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اگلے جہان میں خدا کی رؤیت ہو سکے گی اس جہان میں نہیں