ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 221

۲۲۱ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نانوے نام ہیں جو شخص ان کو یاد کرے وہ جنت میں جائے گا حفظ کے معنے محفوظ کرنے کے ہیں اور ضائع نہ کرنے کے۔اس لئے حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جب انسان خدا کی صفت غفاری کا لفظ سنے تو اُسے ضائع نہ ہونے دے بلکہ اپنے اندر اس کے مفہوم کو پیدا کر لے۔اسی طرح جب رحمن کی صفت سنے تو اس صفت کو اپنے اندر محفوظ کر لے ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو خدا کے ننانوے نام یاد کر لے وہ جنت میں چلا جائے گا کیونکہ اس طرح تو جنت ایک کھیل بن جاتا۔پس حق یہی ہے کہ حفظ کے معنے محفوظ کر لینے اور باہر نہ نکلنے دینے کے ہیں اور اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان سبحان ، قدیر ، رحمن ، رحیم وغیرہ بن جائے اور وہ انسان جو اپنے اندر خدا تعالیٰ کی نانوے صفتیں پیدا کر لے گا وہ جنت میں نہ جائے گا تو پھر اور کون جائے گا۔رؤیت الہی جب اس بات کا پتہ لگ جائے کہ انسان خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر سکتا ہے تو عالم ہی بدل جاتا ہے۔پہلے تو یہی سوال تھا کہ خدا ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو اس کی کیا صفات ہیں؟ جب صفات کا پتہ لگا تو ان پر غور کیا کہ ان کا ہم پر کیا اور کس طرح اثر پڑتا ہے؟ پھر جب معلوم ہوا کہ وہ نہایت وسیع ہیں اور پھر یہ معلوم ہوا کہ وہ صفات میرے اندر آ سکتی ہیں اور اس طرح خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو سکتا ہے تو اس مقام پر انسان کے خیالات میں عجیب تغیر پیدا ہو جائے گا۔اس وقت اس کی حالت ایسی ہی سمجھ لو جیسے کسی بچہ کو شہر میں لے جائیں وہ ضرور کہے گا کہ میں یہ چیز بھی لے لوں اور یہ بھی لے لوں۔بخاری کتاب التوحيد باب رانَ لِلهِ مِائَةَ اسمر الا وَاحِدَةً