ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 220

۲۲۰ دوسرا ظہور ان صفات کا شرعی ذرائع سے ہوتا ہے۔جیسے مثلاً دُعا سے۔دعا طبعی قانون کا جزء نہیں بلکہ شرعی قانون کا جزء ہے اور اس کے ذریعہ سے بھی خدا تعالیٰ کی وہ صفات جو خاص اوقات میں ظاہر ہوتی ہیں جلوہ گری کرتی ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ اس ذریعہ سے جس قدر صفات الہیہ کو متحرک کیا جا سکتا ہے اس قدر قانون طبعی کے ذریعہ سے بھی نہیں کیا جا سکتا۔غرض خدا تعالیٰ کی صفات مختلف دائروں میں عمل کر رہی ہیں۔اگر ان کو مد نظر نہ رکھا جائے تو صفات الہیہ کے ظہور کا مسئلہ مشتبہ ہو جاتا ہے۔کیا خدا سے تعلق ہو سکتا ہے؟ خدا تعالیٰ کے متعلق ان معلومات کے حاصل ہونے کے بعد جو اوپر بیان کی گئی ہیں طبعا انسان کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے خدا سے میرا بھی کوئی تعلق پیدا ہو سکتا ہے؟ اسلام کہتا ہے کہ ہاں ہو سکتا ہے اور اس کا طریق یہ ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخلاق اللہ خدا کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اِنَّ اللهَ وتريُحِبُّ الْوِثر خدا وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔پھر فرما يا ان الله۔۔۔۔۔جميل يُحِبُّ الْجَمَال کہ خدا خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بندہ کا خدا سے تعلق پیدا کرنا جائز رکھا گیا ہے اور طریق یہ بتایا ہے کہ انسان خدا کی صفات کو اپنے اندر لے اور اپنے اوپر منعکس کرے۔اسی طرح ایک اور حدیث ہے جس سے تعلق پیدا کرنے کا پتہ لگتا ہے اور وہ یہ کہ ترمذی ابواب الوتر باب ماجاء ان الوترليس بخش مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحه ۱۵۱